قومی

ن لیگ کا مولانا فضل الرحمان کے دھرنے میں شرکت کا فیصلہ

شہباز شریف کی زیر صدارت ن لیگ کا اجلاس۔ مولانا فضل الرحمان کے دھرنے میں شرکت کا فیصلہ۔ احسن اقبال کہتے ہیں کہ ن لیگ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ہے۔ احتجاج کو قومی مارچ بنانا چاہتے ہیں۔ حکومت کو ہٹانے کے لیے تحریک کا ہر اول دستہ بنیں گے۔

اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی زیر صدارت پاکستان مسلم لیگ (ن) کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس ہوا۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں حنیف عباسی، چوہدری شیر علی، آصف کرمانی، جاوید لطیف، نور الحسن، چوہدری عبدالمنان، طاہرہ اورنگزیب، امیر مقام اور قیصر شیخ، آصف کرمانی، راجا ظفرالحق، ڈاکٹر درشن، رانا اقبال، مشاہد اللہ خان، زاہد حامد، نزہت صادق، احسن اقبال، خرم دستگیر، مریم اورنگزیب، ایاز صادق، طارق فضل چوہدری، مرتضیٰ جاوید عباسی، شزا فاطمہ، عطا تارڑ، پرویز رشید، شیخ آفتاب، رانا مشہود، حفیظ الرحمان، ملک پرویز، اسد جونیجو، بیگم عشرت اشرف، مہتاب عباسی نے شرکت کی۔

اجلاس میں ملک کی مجموعی سیاسی، معاشی، سفارتی صورتحال سمیت اہم قومی امور پرغور کیا گیا اس کے علاوہ وزیراعظم عمران خان کی اقوام متحدہ میں تقریر، مسٔلہ کشمیر اور مولانا فضل الرحمان کے احتجاج کے شرکت کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال ہوا۔

اجلاس میں مولانا فضل الرحمن کے اکتوبر میں اعلان کردہ آزادی مارچ میں شرکت کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ن لیگ کے رہنماء احسن اقبال نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے تجویز دی ہے کہ احتجاجی تحریک کے وقت اور طریقہ کار پر مشاورت ہونی چاہیئے۔ اس کے علاوہ اے پی سی میں بھی تمام جماعتوں سے مشاورت کرنی چاہیئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ  دھرنے ميں بھرپور حصہ ليں گے کیونکہ ہم نے اے پی سی فيصلے کے ساتھ جانا ہے۔ ملک ميں فوری طور پر اليکشن کی راہ ہموار کرنا ہوگی اورحکومت کو ہٹانے کے لیے تحریک کا ہر اول دستہ بنیں گے۔

مزید کہا کہ عوام کو پتہ چل گیا ہے کہ ان کے ساتھ تبدیلی کے نام پر دھوکا ہوا ہے۔ ہمارے خلاف انتقامی کارروائیاں کی جارہی ہیں۔ اب حکومت سے نجات کے لیے باقاعدہ مہم چلائی جائے گی۔

احسن اقبال نے کہا کہ وزیراعظم اپنے دورے کے حوالے سے اسمبلی میں آ کر سب کو اعتماد میں لیں۔ اور بتائیں کے ان کی تقریر کا آگے روڈمیپ کیا ہے۔  حکومت نے تو 58 ممالک کی حمایت کا یقین دلایا تھا مگر 16 ووٹ بھی نہ لے سکی۔

حکومت کی سفارتکاری ناکام ہو چکی ہے۔ عمران خان کو خود ملکوں کا دورہ کرنا چاہیے تھا۔ وزیراعظم کو مظفرآباد جلسے میں اپوزیشن کو دعوت دینی چاہیئے تھی۔

بولے کہ پنجاب سے بدلہ لیا جا رہا ہے۔ ہمارے لگائے منصوبوں کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ ملک کا ہر شعبہ برباد ہوگيا ہے اور غريب عوام پس رہے ہيں۔

 

 

 

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers