قومی

خورشید شاہ 13 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے

رضا ربانی خورشید شاہ کے وکیل بن گئے۔ اثاثہ جات کیس کی سماعت کے لیے احتساب عدالت سکھر میں پیش، دلائل میں کہا کہ میرے مؤکل کو صرف سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ خورشید شاہ کا 13 روزہ ریمانڈ منظور۔

آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں نیب حکام نے پیپلز پارٹی رہنماء خورشید شاہ کا 9 روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر انہیں سکھر کی احتساب عدالت میں پیش کیا۔

ذرائع کے مطابق اس پر موقع پر پیپلزپارٹی کے اہم رہنما رضا ربانی، اعتزازاحسن، قمرزمان قاہرہ، چودھری منظوراحمد، ناصرحسین شاہ اوردیگر رہنماء عدالت میں موجود تھے۔

پیشی پر  نیب حکام کی جانب سے خورشید شاہ کے مزید جسمانی ریمانڈ کی گزارش کی گئی۔ نیب کے وکیل نے کہا کہ خورشید شاہ کا گھر رفاہی پلاٹ پر تعمیر ہے اور ان کا گھر 6 کروڑ روپے کی لاگت سے بنا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ خورشید شاہ اور ان کے خاندان کے 10 بینک اکاؤنٹس ہیں اور ان بینک اکاؤنٹس میں کروڑوں روپے کی ٹرانزیکشنز ہوئیں ہیں۔

خورشید شاہ کے وکیل رضا ربانی اور رمیش کمار نے عدالت سے نیب کو مزید ریمانڈ دینے کی مخالفت کردی۔

ان کا کہنا تھا کہ خورشید شاہ کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ عدالت  کے حکم کے باوجود مجھے اکیلے میرے مؤکل خورشید شاہ سے ملنے نہیں دیا جاتا۔

ذرائع کے مطابق رضا ربانی کا کہنا تھا کہ نیب نے گزشتہ پیشیمیں کہا تھا خورشیدشاہ کے خلاف ٹھوس ثبوت ہیں۔ کہاں ہیں وہ ثبوت؟ پیش کیوں نہیں کرتے، صرف زبانی الزامات کی قانون میں کیا اہمیت ہے، بے نامی جائیدادیں کہاں ہیں؟ وہ فرنٹ مین کہاں ہیں؟

عدالت نے تمام دلائل سننے کے بعد خورشید شاہ کا مزید 13 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر کے انہیں نیب کے حوالے کر دیا۔

خورشید شاہ کی پیشی کے موقع پر پیپلز پارٹی کے کارکنوں کی ایک بڑی تعداد عدالت کے باہر موجود تھی۔ سیکیورٹی کے سخت اقدامات کیے گئے تھے۔

آپ کو بتاتے چلیں کہ چند روز قبل عدالت میں نیب کی جانب سے 7 روزہ راہداری ریمانڈ کی درخواست کی گئی تھی۔ مگر عدالت نے خورشید شاہ کا 2 روزہ راہداری ریمانڈ دے کر نیب کو انہیں فوری سکھر کی عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔

اس سے ایک روز قبل نیب سکھر نے خورشید شاہ کو اسلام آباد سے گرفتار کر لیا تھا۔ خورشید شاہ بنی گالہ میں اپنے دوست کے گھر موجود تھے۔

رہنماء پیپلز پارٹی اور سابق اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی خورشید شاہ پر غیر قانونی طور پر جائیدادیں اپنے نام کروانے، ہوٹل، پٹرول پمپ اور بنگلے اور اس طرح کی بے نامی جائیدادیں بنانے کا الزام ہے۔

آپ نیوز نے خورشید شاہ کی جائیدادوں کی تفصیل حاصل کر لی۔ خورشید شاہ اور ان کے خاندان کے مختلف شہروں میں 105 اکاؤنٹس ہیں۔ خورشید شاہ نے فرنٹ میین کے نام پر تراسی جائیدادیں بنا رکھی ہیں۔ خورشید شاہ پر 500 ارب روپے کی کرپشن کا الزام ہے۔

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers