قومی

قاسم سوری نے الیکشن ٹربیونل کا فیصلہ عدالت میں چیلنج کر دیا

سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری نے الیکشن ٹربیونل کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا۔ فیصلہ کالعدم کرنے اور اپیل کو کل سماعت کے لیے مقرر کرنے کی استدعا۔

سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے الیکشن ٹریبونل کا فیصلہ اپنے خلاف آنے پر سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا۔

انہوں نے اپیل اپنے وکیل نعیم بخاری کے ذریعے کی جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ انتخابی عمل میں بے ضابطگیاں قاسم خان سوری سے منسوب نہیں ہوسکتیں۔ ٹربیونل کے شواہد کا جائزہ نہیں لیا۔

انہوں نے عدالت سے گزارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ درخواست کو فوری منظور کرتے ہوئے کل ہی سماعت کے لیے مقرر کیا جائے۔

آپ کو بتاتے چلیں کہ الیکشن ٹربیونل نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 265 سے منتخب قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی کامیابی کو کالعدم قرار دے کرحلقے میں دوبارہ الیکشن کرانے کا حکم دیا تھا۔

الیکشن ٹریبونل کے جج جسٹس عبداللہ بلوچ نے بی این پی کے لشکر رئیسانی کی دی ہوئی درخواست پر سماعت کی تھی۔

سماعت میں یہ ثابت ہوا تھا کہ الیکشن ٹریبونل کے احکامات پر نادرا کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق حلقہ این اے 265 کے 52 ہزار ووٹوں کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

الیکشن ٹربیونل نے حلقے میں دوبارہ الیکشن کرانے کا حکم دیتے ہوئے حلقہ این اے 265 سے کامیاب ہونے والے قاسم سوری کی بطور رکن قومی اسمبلی کامیابی کو کالعدم قراردیا تھا۔ جس کے بعد وہ اسمبلی کے رکن نہیں رہے تھے۔

آپ کو مزید بتاتے چلیں کہ قاسم سوری نے عام انتخابات 2018 میں بلوچستان میں قومی اسمبلی کے حلقہ 265 کوئٹہ 2 سے ایلکشن لڑا تھا۔ الیکشن میں وہ کامیاب قرار پائے اور بعد میں وہ قومی اسمبلی میں بطور ڈپٹی اسپیکر بھی منتخب ہوئے تھے۔

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers