بین الاقوامی

راہول گاندھی کی بھارتی وزیر خارجہ اور مودی پر تنقید

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم کی داستان زبان زد عام۔ جنرل اسمبلی اجلاس کے دوران دنیا نے مودی کے بھارت کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا۔ بھارتی وزیر خارجہ کا اعتراف۔ عالمی دباؤ پر جے شنکر بھی سچ بولنے پر مجبور۔ بولے زیادہ تر سربراہان مملکت کشمیر سے متعلق پوچھتے رہے۔

عالمی دباؤ میں آ کر بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر بھی سچ بولنے پر مجبور ہو گئے۔ بھارتی وزیر خارجہ اس وقت اپنے واشنگٹن کے دورے پر ہیں۔

ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ اقوام متحدہ کے اجلاس پر آئے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے جس کسی رہنماء نے بھی ملاقات کی ان سب نے نریندر مودی سے مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے سوالات کیے۔

دوسری جانب نریندر مودی کا ہیوسٹن میں اب کی بار ٹرمپ سرکار کا نعرہ  بھارت کو بھاری پڑنے لگا ہے۔ امریکی اپوزیشن ڈیموکریٹک پارٹی ناراض ہو گئی۔ جس کے باعث واشنگٹن میں بھارتی وزیر خارجہ کو وضاحتیں دینا پڑ گئیں۔

ہیوسٹن جلسے میں مودی کے ٹرمپ کے حق میں لگائے نعرے سے متعلق سوال پر بھارتی وزیر خارجہ نے کہا کہ بہت غور سے دیکھیں کہ وزیراعظم نریندر مودی نے جلسے میں کیا کہا۔  میرے مطابق، وزیر اعظم نے جو کہا اس کامطلب یہ تھا کہ امیدوار ٹرمپ نے اس کا استعمال پہلے بھی کیا تھا (“اب کی بار ٹرمپ سارکار”)۔ تو اس لحاظ سے  وزیراعظم نریندر مودی ماضی کی بات کر رہے تھے۔ مجھے نہیں لگتا کہ ہمیں جو کچھ کہا گیا تھا اس کی غلط تشریح کرنی چاہئے۔ مجھے نہیں لگتا کہ ایسا کرنے سے آپ کسی کی ساتھ اچھی خدمت کر رہے ہیں۔

دوسری جانب بھارتی کانگریس لیڈر راہول گاندھی نے جےشنکر کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اپنے ٹویٹر پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ مسٹر جیشنکر آپ کا شکریہ کہ آپ نے ہمارے وزیراعظم کی نااہلی پر پردہ ڈالا۔ ان کی جعل سازی کی توثیق بھارت کے لئے ڈیموکریٹس کے ساتھ شدید پریشانیوں کا باعث بنی ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ آپ کی مداخلت سے یہ کام ختم ہوجائے گا۔ جب آپ اس پر بات کرتے ہو تو اپنے وزیراعظم کو تھوڑا سفارتکاری کے بارے میں بھی سیکھا دیں۔

آپ کو بتاتے چلیں کہ ہیوسٹن میں بھارتی وزیراعظم نے اپنے جلسے میں  صدر ٹرمپ کی چاپلوسی اور امریکہ میں آنے والے انتخابات کے سلسلے میں صدر ٹرمپ کی جانبدارانہ حمایت کی تھی۔

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers