بین الاقوامی

مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کو 65 روز گزر گئے

مقبوضہ کشمیر کے مکین 65 روز سے بے بسی کی تصویر۔ پلوامہ میں سرچ آپریشن کی آڑ میں نوجوان شہید۔ امریکی خارجہ امور کمیٹی نے بھارت سے پابندیاں ہٹانے کا مطالبہ کر دیا۔ رابطے منقطع، مواصلات کا بلیک آؤٹ، چپے چپے پہ بھارتی فوجی تعینات۔ احتجاج کرنے والوں پہ آنسو گیس کی شیلنگ۔

آج مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ ہوئے 65 واں روز ہے۔ مظلوم کشمیری پچھلے 65 روز سے بھارتی جبر میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ آج پلوامہ میں سرچ آپریشن کی آڑ میں ظالم بھارتی فوج نے ایک نہتہ نوجوان شہید کر دیا۔ دوسری جانب امریکی خارجہ امور کمیٹی نے بھی بھارت سے مقبوضہ وادی سے پابندیاں ہٹانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

دودھ کے لیے بلکتے بچے، دوا کے لیے ترستے بیمار عالمی برادری کی توجہ کے طالب ہیں۔ گھروں میں محصور افراد کو اپنے وفات پانے والے رشتے داروں کے جنازے پڑھنے کی بھی اجازت نہیں ہے۔

کرفیو کے باعث مقبوضہ وادی میں انٹرنیٹ، فون اور ٹی وی کی نشریات روزانہ کی بنیاد پر بند ہیں جبکہ حریت رہنما اور سیاسی رہنماؤں کو بھی گھروں یا جیلوں میں بند کر دیا گیا ہے۔

کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق زرائع ابلاغ کے نظام کی معطلی، مسلسل کرفیو اور سخت پابندیوں کی وجہ سے لوگوں کو بچوں کے لیے دودھ، زندگی بچانے والی ادویات اور دیگر اشیائے ضرورت کی شدید کمی کا سامنا ہے۔

کرفیوکے باوجود بھی سری نگر سمیت مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کا بھارت مخالف احتجاج جاری ہے۔ جس پر قابض بھارتی فوج نے پیلٹ گن کا استعمال کرنا شروع کر دیا ہے اور آنسو گیس کی شیلنگ بھی کی جس کے نتیجے میں متعدد مظاہرین زخمی ہوگئے ہیں۔

کشمیر میڈیا کی تفصیلات کے مطابق مقبوضہ وادی کے کچھ خاص علاقوں میں سکول کھلنے کے باوجود خالی رہے اور وادی کی موجودہ صورتحال پر والدین نے بھی بچوں کو سکول بھیجنے سے انکار کردیا۔

آپ کو بتاتے چلیں کہ 5 اگست کو راجیہ سبھا میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا بل پیش کرنے سے پہلے ہی صدارتی حکم نامے کے ذریعے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی تھی اور ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر کو اپنی وفاقی حکومت کے زیرِ انتظام دو حصوں میں تقسیم کردیا تھا۔

اس کے ساتھ ہی مودی سرکار اور قابض بھارتی فوج نے وادی میں کرفیو لگا کر مکمل طور پر اسے جیل میں تبدیل کر دیا ہے۔

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers