قومی

پیپلز پارٹی کا مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کی حمایت کا اعلان

پیپلز پارٹی مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کی حامی۔ قافلہ جہاں سے گزرے گا، ہر شہر میں سپورٹ کریں گے۔ قدم سے قدم نہیں ملائیں گے، کور کمیٹی کا فیصلہ۔ ارکان آج پھر بیٹھیں گے۔ ن لیگ تذبذب کا شکار، ہاں کی نہ ناں۔ شہباز شریف آج جیل میں بڑے بھائی سے مشاورت کے بعد ختمی فیصلہ کریں گے۔

پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں ملک کی موجودہ سیاسی اور معاشی صورت حال پرغورکیا گیا۔ کراچی میں پی پی کورکمیٹی کا اجلاس دوبارہ ہوگا۔ جس میں پارٹی کی چاروں صوبوں کی قیادت شریک ہوگی۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کی حامی ہے۔ مولانا فضل الرحمان کواحتجاج کا پورا حق ہے۔ قافلہ جہاں سے گزرے گا، ہر شہر میں سپورٹ کریں گے۔

مزید کہا کہ پیپلز پارٹی کسی بھی غيرآئينی طريقے سے حکومت کو بھیجنا نہيں چاہتی۔ ان لیکن اس کے راستے بن رہے ہیں۔ ہم 18 اکتوبر کا کراچی میں جلسہ کریں گے۔

مزید بولے کہ سندھ حکومت مولانا فضل الرحمان کی جماعت سے رابطہ کرے گی۔ سندھ میں آزادی مارچ والوں کو مکمل سہولیات فراہم کی جائیں گیں۔

ذرائع کے مطابق مارچ اور دھرنے میں پیپلزپارٹی جزوی طور پر شریک ہوگی۔

اجلاس ميں متفقہ فيصلہ ہوا ہے کہ بلاول بھٹو دھرنے میں خود شریک نہیں ہوں گے لیکن پيپلزپارٹي کے کچھ رہنما دھرنے ميں شرکت کريں گے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق آزادی مارچ سے کے حوالے سے مسلم لیگ ن کا فیصلہ تاخیر کا شکار ہو گیا ہے۔ شہباز شریف نے آزادی مارچ کے حوالے سے آج نوازشریف سے مشاورت کرنا تھی لیکن اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے کمر میں تکلیف کی وجہ سے ملاقات مؤخر کر دی۔

ذرائع کے مطابق ن لیگ کے کچھ لوگ مولانا فضل الرحمان کے دھرنے میں شرکت کے حامی ہیں جبکہ کچھ رہنماء اس کے مخالف ہیں۔

نواز شریف نے اس حوالے سے سفارشات کی روشنی میں فیصلہ کرنا تھا مگر اب معاملہ کھٹائی میں پڑتا جا رہا ہے۔

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers