قومی

چوہدری شوگر ملز کیس میں نواز شریف کا 14 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

چوہدری شوگر ملز کیس میں نواز شریف کی احتساب عدالت میں پیشی۔ نیب کی جانب سے جسمانی ریمانڈ کی استدعا منظور۔ میڈیا سے غیر رسمی گفتگو میں نواز شریف کا مولانا فضل الرحمان کی بھرپور حمایت کا اعلان۔ کہا کہ مولانا نے الیکشن کے فوری بعد استفعے دینے کی بات کی تھی، ان کی بات میں وزن تھا۔ اسے رد کرنا غلط تھا۔

 

چوہدری شوگرملزکیس سے متعلق لاہور کی احتساب عدالت میں سماعت ہوئی۔ نیب حکام کی جانب سے سابق وزیراعظم نواز شریف کو جج امیر محمد خان کے روبرو کیا گیا۔

عدالتی کارروائی کا آغاز ہوا تو نیب کی جانب سے نواز شریف کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی۔ نیب حکام نے اپنے دلائل میں کہا کہ  نواز شریف کی فیملی نے 1992 سے 2016ء تک چودھری شوگر ملز میں سرمایہ کاری کی۔ جب چوہدری شوگرملزقائم ہوئی تو نواز شریف تب وزیراعظم تھے۔ انہوں نے سرکاری عہدے کا غلط استعمال کیا۔

مزید کہا کہ چوہدری شوگر ملز کے نام پر منی لانڈرنگ ہوتی رہی ہے۔ جج کے ایک سوال پر نیب کے وکیل نے یہ بھی کہا کہ ورانٹ گرفتاری باقاعدہ دکھا کر نواز شریف کو گرفتار کیا گیا ہے۔

نواز شریف نے روسٹرم پر آ کر اپنا بیان قلمبند کرایا۔ جج کی اجازت لے کر انہون نے کہا کہ  1937 سے 1971 تک پیسہ کاروبار سے آیا ہے۔ میرے والد کاروباری آدمی تھے اور ہمارا اس زمانے میں اسٹیل کا کام تھا۔ میں وزیراور تین مرتبہ وزیراعظم بھی رہا ہوں مجھے بتائیں کہ میں نے کہاں کرپشن کی ہے۔

مزید بولے کہ پانچ مرتبہ کی وزارت میں ایک پیسے کی کرپشن دکھا دیں میں سیاست سے دستبردار ہو جاؤں گا۔  مشرف نے نیب میرے لیے ہی بنائی تھی اور آج بھی یہ ن لیگ کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔ میں توپہلے ہی قید کاٹ رہا ہوں، اس کیس میں نہ سہی کسی اور میں گرفتاری ڈال دیں۔

یہ مجھے کالا پانی لے جانا چاہتے ہیں اور نیب گوانتا ناموبے لے جانا چاہتی ہے تو یہ ان کی بھول ہے کہ مسلم لیگ (ن) گھبرا جائے گی۔ نواز شریف نہیں جھکے گا۔

نواز شریف کے وکیل نے کہا کہ کمپنیوں کے متعلق تحقیقات مخالف حکومتوں نے بھی کی تھیں مگر انہیں کچھ نہ ملا۔ نواز شریف کے اثاثے کو 3 دہائیوں سے چھانا جا رہا ہے۔ چوہدری شوگر مل بنانے کے پراسیس میں نواز شریف کہیں نہیں تھے اور نہ ہی نوازشریف کبھی چوہدری شوگرملز کے ڈائریکٹر اور شیئرہولڈر رہے ہیں۔

جےآئی ٹی کو نوازشریف کے اثاثوں کی چھان بین کا اختیار تھا۔ اس حوالے سے پانامہ لیکس کی جے آئی ٹی نے بھی تمام تحقیقات کیں تھیں۔ یہ سب نوازشریف پر سیاسی کیس بنائے گئے ہیں۔ چوہدری شوگرملزکی دستاویزات پہلے سے ہی نیب کے پاس موجود ہیں۔

عدالت نے تمام دلائل سننے کے بعد نوازشریف کو 14 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کرتے ہوئے 25 اکتوبر کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

ذرائع کے مطابق نیب ڈے کیئر سینٹر کو سب جیل کا درجہ دیا جائے گا۔ نیب حکام یہاں نواز شریف سے تفتیش کریں گے۔

میڈیا سے غیر رسمی گفتگو میں نواز شریف کا مولانا فضل الرحمان کی بھرپور حمایت کا اعلان کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ مولانا نے الیکشن کے فوری بعد استفعے دینے کی بات کی تھی۔ ان کی بات میں وزن تھا۔ اسے رد کرنا غلط تھا۔  میں نے شہباز شریف کو خط میں سب کچھ لکھ کر بھیجا ہے۔

آپ کو بتاتے چلیں کہ نوازشریف کی پیشی کے موقع پر عدالت کے باہر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے۔ پولیس کی جانب سے رکاوٹیں کھڑی کر کے راستے بند کیے گئے تھے۔ کمرہ عدالت کے اندر اور باہر ن لیگ کے کارکنوں کی بڑی تعداد موجود تھی جنہوں نے خوب نعرے بازی کی۔

 

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers