بین الاقوامی

وزیراعظم عمران خان کی ایرانی صدر حسن روحانی سے ملاقات

وزیراعظم عمران خان ایران کے ایک روزہ دورے کے لیے تہران میں موجود ہیں۔ جہاں ان کی ایرانی صدر حسن روحانی سے ملاقات ہوئی ہے۔ ملاقات کے موقع پر وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی، معاون خصوصی زلفی بخاری اور ڈی جی آئی ایس آئی بھی موجود تھے۔

ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور اور خطے کے سکیورٹی معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستانہمسایہ ملک ایران کے ساتھ تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ پاکستان خطے میں قیام امن کیلئے اپنا کردار ادا کرنے کا خواہشمند ہے۔

ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں نے پریس کانفرنس بھی کی۔ صدر حسن روحانی نے ثالثی میں اپنا کردار ادا کرنے پر وزیراعظم عمران خان کا شکریہ ادا کیا۔

کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے دورہ ایران کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اس دورے کے مثبت اثرات آئیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران پڑوسی دوست ممالک ہیں۔ ایران اور پاکستان ملکر خطے کے استحکام کیلئے کوششیں اور بہتری کے لیے کام کرسکتے ہیں۔ ہم دونوں سمجھتے ہیں کہ علاقائی مسائل مذاکرات سے ہی حل ہو سکتے ہیں۔

مزید کہا کہ خیر سگالی جذبے کا جواب خیر سگالی سے ہی ملے گا لیکن اگر کوئی ملک سمجھتا ہے کہ خطے میں عدم استحکام کے بدلےکوئی کارروائی نہیں ہو گی تو وہ غلط ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ واقعات خصوصاً خلیج فارس اور دیگر معاملات پر عمران خان سے تفصیلی گفتگو ہوئی ہے۔ جوہری ڈیل سے متعلق امور پر بھی تفصیلی اور اہم نکات زیر غور آئے ہیں۔

صدر روحانی نے مزید کہا کہ یمن میں جنگ بند کر کے لوگوں کی مدد کرنی چاہیے۔ دوسری جانب امریکا کو چاہیے کہ ایران پر عائد پابندیاں اٹھائے۔

دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ایرانی صدرحسن روحانی سے تیسری بار ملاقات ہوئی جس میں دو طرفہ تجارت اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال ہوا ہے۔

بولے کہ ہم دوبرادر ملکوں کے درمیان سہولت کاری کرناچاہتے ہیں۔ سعودی عرب اور ایران ک مابین جنگ سے امن کے ساتھ معیشت کو بھی نقصان ہوگا۔ اس کے علاوہ جنگ کی صورت میں خطے میں غربت بھی پھیلے گی۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ جنگ سے تیل کی قیمتیں بڑھیں گی اور پھر دیگر ممالک پیسے کو لوگوں پر خرچ کرنے کے بجائے تیل خریدنے پر لگائیں گے۔

ولے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے 70 ہزارجانیں قربان کیں۔ سعودی عرب اور ایران کے تنازع کو بھی سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں

دونوں ممالک کے تنازع کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالنا ہوگا۔ ایرانی صدر حسن روحانی سے ملاقات حوصلہ افزائی رہی۔

کشمیر کے حوالے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت نے80 لاکھ کشمیریوں کوقید کر رکھا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے لیے ایران کی حمایت پر شکر گزار ہیں۔

وزیراعظم عمران خان دورے کے دوران ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای سے بھی ملاقات کریں گے جس میں دونوں ملکوں کے مابین برادرانہ تعلقات سمیت دیگر موضوعات زیر غور آئیں گے۔

آپ کو بتاتے چلیں کہ یہ وزیراعظم عمران خان کا ایران کا دوسرا دورہ ہے۔ اس سے پہلے وزیراعظم عمران خان اسی سال اپریل میں بھی ایران کا دورہ کر چکے ہیں۔

وزيراعظم ايران کے بعد سعودی عرب روانہ ہوں گے۔ دورہ سعودی عرب ميں وہ ايرانی رہنماؤں سے ملاقات پر بريفنگ ديں گے اور ایرانی صدر کا پیغام پہنچائیں گے۔

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers