انٹرٹینمنٹقومی

شہنشائے قوالی استاد نصرت فتح علی خان کا 71واں یوم پیدائش

13 اکتوبر 1948ء کی تاریخ میں موسیقی کی دنیا کے ایک روشن ستارے نے جنم لیا۔ استاد نصرت فتح علی خان فیصل آباد کے ایک پنجابی مسلم گھرانے میں پیدا ہوئے جس کا تعلق جالندھر سے تھا۔ شہنشائے قوالی اپنے والدین کی پانچویں اولاد تھے۔

ان کے خاندان میں قوالی کی روایت تقریبا 600 سالوں سے یکے بعد دیگرے آنے والی نسلوں میں سے گزر رہی تھی اور انہوں نے اسی فن کو آگے بڑھایا۔

1971 میں انہوں نے پہلی دفاع اپنے قوال گھرانے کی سربراہی کی اور ریڈیو پاکستان میں رکارڈنگ کی۔ نصرت فتح علی خان نے بنیادی طور پر اردو اور پنجابی اور کبھی کبھار فارسی، برج بھاشا اور ہندی میں بھی گایا۔

پاکستان میں ان کی پہلی بڑی ہٹ گانا حق علی علی تھا ، جو روایتی انداز اور روایتی آلے کے ساتھ پیش کیا گیا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے مڑ کر پیچھے نہیں دیکھا اور موسیقی کی دنیا کو یکے بعد دیگرے لازوال ہٹ گانوں اور قوالیوں سے نوازا۔

ان کی مشہور قوالیوں میں ہلکا ہلکا سرور، ہنجو اکھیاں دے ویڑے وچ پاؤندے نے تمالاں، میرے رشک قمر، توکجا من کجا، مست نظروں سے اللہ بچائے جبکہ دیگر گیتوں میں پاکستان پاکستان، ساون کی راتوں میں، کوئی جانے کوئی نہ جانے، تیرے بن نئی لگدا دل میرا ڈھولنا اور دولہے کا سہرا سہانا لگتا ہے نے دنیا بھر میں مقبولیت کے نئے ریکارڈز قائم کیے۔

نصرت فتح علی خان نے تقریباً 40 سے زائد ممالک میں پرفارم کیا۔ اس کے علاوہ دنیا اور برصغیر کے نامی گرامی گلوکاروں اور موسیکاروں کے ساتھ کام بھی کیا۔ برصغیر میں متعدد آرٹسٹ آج بھی نصرت فتح علی خان کو اپنا استاد مانتے ہیں۔

1987ء میں، انہوں نے پاکستانی موسیقی میں اپنی خدمات کے لئے پرائڈ آف پرفارمنس کے لئے صدر پاکستان کا ایوارڈ حاصل کیا۔ 1996ء میں سنیما کے فن میں غیر معمولی شراکت کے لئے مونٹریال ورلڈ فلم فیسٹیول میں انہیں گرانڈ پری ڈیس اموریکس سے نوازا گیا۔

2001 تک انہوں نے “موسٹ قوالی ریکارڈنگ” کے لئے گنیز ورلڈ ریکارڈ اپنے نام کیا۔ اپنی موت سے قبل انہوں نے 125 سے زیادہ قوالی البمز ریکارڈ کیے تھے۔

نصرت فتح علی خان کو اکثر “ورلڈ میوزک” کا ایک پیش کنندہ قرار دیا جاتا ہے۔

16 اگست 1997 کو طویل علالت کے باعث ان کا لندن میں انتقال ہو گیا۔ نصرت فتح علی خان کو شہنشائے قوالی کے اعزاز سے نوازا گیا۔ آج بھی دنیا بھر میں ان کی موسیقی اور عمدہ کام کے باعث کا نام زندہ ہے۔ دنیا کے ہر کونے میں ان کے مداح موجود ہیں جو آج بھی ان کی موسیقی سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers