قومی

بلاول بھٹو کا پی ایس 11 میں شکست تسلیم کرنے سے انکار

پیپلز پارٹی کی گھر کی سیٹ ہاتھ سے گئی۔ پی ایس 11 لاڑکانہ کے ضمنی الیکشن میں جی ڈی اے امیدوار کامیاب۔ بلاول بھٹو کا جیالے کی شکست ماننے سے انکار۔ نتیجہ ہر فورم پر چیلنج کرنے کا اعلان۔ کہتے ہیں کہ سچ چھپایا نہیں جا سکتا۔ اپنی سیٹ ہر صورت واپس لیں گے۔

اپنے گڑھ لاڑکانہ میں ضمنی انتخاب میں پیپلزپارٹی کو جی ڈی اے کے امیدوار سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ شکست پر بلاول بھٹو نے انتخابی نتائج چیلنج کرنے کا اعلان کر دیا۔

سماجی رابطے کی ویبسائٹ ٹویٹر پر اپنے ٹویٹ میں ان کا کہنا تھا کہ ہم نتائج کو ہر فورم پر چیلنج کریں گے۔ سچ کو چھپایا نہیں جا سکتا۔ ہم دوبارہ الیکشن کرائیں گے اور اپنی یہ سیٹ ہر صورت واپس لیں گے۔

 

بلاول بھٹو کا مزید کہنا تھا کہ پولنگ کا عمل جان بوجھ کرسست روی کا شکار کیا گیا۔ خواتین کے پولنگ اسٹیشنز میں تاخیر سے پولنگ شروع کرائی گئی۔

مزید کہا کہ ہماری خواتین ووٹرز کو ہراساں کیا گیا اور پولنگ ایجنٹس کو پولنگ سٹیشنوں سے باہر نکال دیا گیا۔

لکھا کہ دباؤ کے باوجود جیالوں نے قابل عزت انتخاب کے لیے جدوجہد کی۔ انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ نیب نے پی پی ورکرز، ان کے خاندانوں کو نوٹسز بھیج کرقبل از الیکشن دھاندلی کی۔

الیکشن کمیشن کے بارے میں بھی لکھا کہ شکایت کے باوجود الیکشن کمیشن نے کوئی نوٹس نہیں لیا۔ خاموشی سے ان کی بدنیتی ظاہرہو گئی۔

https://twitter.com/BBhuttoZardari/status/1184915079931842560

آپ کو بتاتے چلیں کہ گزشتہ روز حلقہ پی ایس 11 میں ضمنی انتخاب ہوا جس میں غیر ختمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق جی ڈی اے کے امیدوار معظم عباسی نے 31557 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی جبکہ دوسری جانب پیپلز پارٹی کے امیدوار جمیل سومرو 26021 ووٹ لے سکے۔

آپ کو بتاتے چلیں کہ اس نشست پر عام انتخابات ميں جی ڈی اے کے معظم عباسی نے نثار کھوڑو کی صاحبزادی ندا کھوڑو کو 12 ہزار ووٹوں سے شکست دی تھی۔ بعد میں سپريم کورٹ نے 26 ایکڑ اراضی چھپانے پر معظم عباسی کو نااہل قرار دیا تھا۔

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers