قومی

شہباز شریف کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات، آزادی مارچ میں حمایت کا اعلان

لیڈر آف اپوزیشن شہباز شریف کی جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات ہوئی۔ ملاقات کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ہم آزادی مارچ میں شریک ہونگے۔ ہم مولانا کا 31 اکتوبر کو استقبال کریں گے۔

شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمان کی پریس کانفرنس #AapNews #BreakingNews #PressConference #PMLN #AzadiMarch

Posted by Aap News on Friday, October 18, 2019

شہباز شریف نے کہا کہ مولانا سے ملکی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال ہوا ہے۔ ملک کے حالات بدترین ہو گئے ہیں۔ غریب دواؤں کے بغیر سسک سسک کے جان دے رہا ہے۔ ملک میں سرمایہ کاری مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔ پاکستان کی معاشی صورتحال اس وقت اپنی بدترین سطح پر ہے۔ ورلڈ بینک کے مطابق پاکستان کی جی ڈی پی 2020 میں 2.4 کے قریب ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ یہ سب کچھ پی ٹی آئی اور عمران خان کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اداروں نے ان کی بھرپور حمایت کی۔ اس تاریخی سپورٹ کے باوجود بھی عمران خان ناکام ہو گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کراچی سے پشاور تک پوری قوم اس بات پر یکسوع ہے کہ حکومت کو گھر جانا چاہیے اور جلد سے جلد نئے انتخابات ہونے چاہیے۔

بولے کہ میرا مولانا سے محبت اور احترام کا رشتہ ہے۔ مولانا کے مارچ کے حوالے سے ہمارے قائد نواز شریف کی ہدایات ہمیں ایک خط کی صورت میں مل چکی ہیں۔ ہم آزادی مارچ میں بھرپور شریک ہونگے، اپنے مطالبات پیش کریں گے اور اپنا اگلا لائحہ عمل تب پیش کریں گے۔
اس موقع پر مولانا فضل الرحمان کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ہم مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف، صدر شہباز شریف کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ آج انہوں نے پوری قوم کے ساتھ اسلام آباد میں داخل ہونے کا اعلان کیا ہے۔
بولے کہ آج پورا کزب اختلاف ہمارے ساتھ ہے، ہماری حمایت کے لیے اسلام آباد جا رہا ہے۔ اور ہماری آواز کو ایک قومی آواز بنا رہی ہے۔ 27 اکتوبر کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا دن ہے۔ یہ وہ دن ہے جب ہندوستان کی فوج کشمیر میں داخل ہوئی اور کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کیا۔
انہوں نے اعلان کیا کہ اس کے بعد ہم سب مل کر 31 اکتوبر کو اسلام آباد میں داخل ہونگے۔ ہم مل کر آگے جائیں گے اور مل کر اپنے فیصلے کریں گے۔ یہ حکومت ناجائز بھی ہے اور نااہل بھی ہے۔
حکومت ایک طرف سے ہمیں مذاکرات کی دعوت دے رہی ہے اور دوسری جانب ہمیں گالیاں دے رہی ہے۔ گالیاں مذاکرات اور سنجیدگی کبھی اکٹھے نہیں ہو سکتے۔ اگر حکومت سنجیدہ ہے تو پہلے استفعیٰ دے اس کے بعد ہم مذاکرات کر سکتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق آج ہونے والی ملاقات میں ن لیگ کے سنیئر رہنما احسن اقبال، مریم اورنگزیب کے علاوہ امیر مقام، حنیف عباسی اور پرویز ملک بھی موجود تھے جبکہ جے یو آئی کی جانب سے مولانا عبدالغفور حیدری، مولانا امجد خان شریک ہوئے۔ شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمن نے آزادی مارچ پر حکومت کو ٹف ٹائم دینے کیلئے مشترکہ کاوشوں پر اتفاق کیا۔

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers