قومی

حکومت کا جے یو آئی کی ذیلی تنظیم کو کالعدم قرار دینے پر غور

لاٹھی والوں سے نمٹنے کے لیے قانون کی لاٹھی تیار۔ حکومت کا جے یو آئی کی ذیلی تنظیم انصارالاسلام کو کالعدم قرار دینے پر غور۔ وزارت داخلہ نے سمری وزارت قانون اور ایکشن کمیشن کو بھجوا دی۔ مؤقف اپنایا کہ تنظیم لٹھ بردار ہے، قانون کسی قسم کے مسلح ملیشیا کی اجازت نہیں دیتا۔

حکومت کی جانب سے جمعیت علمائے اسلام (ف) کی ذیلی تنظیم کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔  وزارت داخلہ نے ذیلی تنظیم انصار الاسلام کو کالعدم قرار دینے کے لیے سمری وزارت قانون اور الیکشن کمیشن کو بھجوا دی ہے۔

وزارت داخلہ کی جانب سے بھیجی گئی سمری میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ جے یو آئی (ف) کی ذیلی تنظیم انصار الاسلام لٹھ بردار ہے اور قانون اس کی اجازت نہیں دیتا۔

مزید کہا گیا کہ  ذیلی تنظیم پارٹی منشور کی شق نمبر26 کے تحت الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ ہے۔

آپ کو بتاتے چلیں کہ کچھ روز پہلے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں سربراہ جمعیت علمائے اسلام ف مولانا فضل الرحمٰن باوردی محافظ دستے سے سلامی لیتے دکھائی دیے گئے تھے۔

اس کے علاوہ کچھ تصاویر بھی وائرل ہوئی تھیں جس میں باوردی افراد خاردار تاروں سے لیس ڈنڈے تیار کر رہے ہیں اور اس کے علاوہ لڑائی کی مشقیں بھی کر رہے ہیں۔

خیبر پختونخوا حکومت نے ویڈیو وائرل ہونے کے بعد جے یو آئی ف کے محافظ دستے کے خلاف کارروائی کا اعلان بھی کیا تھا۔

دوسری جانب حکومت کی جانب سے وفاقی دارالحکومت میں فوج تعینات کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق احتجاج سے حالات خراب ہوئے تو اسلام آباد کو فوج کے حوالے کر دیا جائے گا۔

آرٹیکل 245 کے تحت سول انتظامیہ کی مدد کے لیے فوج طلب کی جا سکتی ہے۔  فوج طلبی کا حتمی فیصلہ وزارت داخلہ کرے گی۔

کچھ روز پہلے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ پوری قوم کی ایک ہی آواز ہے کہ نئے الیکشن کرائے جائیں۔ انتخابات کے بعد جو بھی نتائج ہوں گے اور جو بھی جیتے گا،  ہم وہ نتائج قبول کریں گے۔

اداروں سے مخاطب ہو کر انہوں نے کہا کہ ہم اداروں سے تصادم نہیں چاہتے لیکن میں اداروں کو بتانا چاہتا ہوں کہ اگر مارشل لاء کی کوشش کی گئی تو آزادی مارچ کا رخ ان کی طرف موڑ دیا جائے گا۔

آپ کو بتاتے چلیں کہ معاشی بدحالی اور جنرل الیکشن میں دھاندلی کو بنیاد بنا کر مولانا فضل الرحمان نے 27 اکتوبر کو حکومت کے خلاف اسلام آباد کی جانب مارچ شروع کرنے کا اعلان کررکھا ہے۔

 

 

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers