قومی

حکومتی رٹ چیلنج کی تو جواب ملے گا: وزیر دفاع پرویز خٹک

حکومتی مذاکراتی ٹیم نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا کہ حکومت نے اپنے کارڈز اوپن کر دیے ہیں۔ کسی نے کسی کو گالی نہیں دی۔ مولانا اپنی زبان بھی دیکھ لیں، وہ جو باتیں کر رہے ہیں ان کو بھی نوٹ  کیا جائے۔

حکومتی مذاکرتی ٹیم کی پریس کانفرنس #AapNews #BreakingNews #Live #PTI

Posted by Aap News on Saturday, October 19, 2019

 

مولانا فضل الرحمان پاکستان اور کشمیر کے لیے سوچیں۔ دھرنے کے دوران نقصانات کا ازالہ کون کرے گا؟ حکومت وہی کرے گی جو قانون کہتا ہے۔ اگر یہ نہ رکے تو حکومت اپنا فیصلہ کرے گی۔

افراتفری ہوئی تو ذمےدار اپوزیشن ہوگی۔ اپوزیشن نے اسمبلی میں کوئی ڈیمانڈ پیش نہیں کی۔ ہم نے ان لوگوں سے خوفزدہ ہو کر کمیٹی نہیں بنائی۔ مذاکرات نہ کرنے کا مطلب ان کا ایجنڈہ کچھ اور ہے۔ اپوزیشن نے کشمیر ایشو کو دبانے کے لیے ایجنڈہ بنایا ہے۔ حکومتی رٹ چیلنج کی تو جواب ملے گا۔ حکومت وہی فیصلہ کرے گی جس سے ڈیڈلاک نہ آئے۔

مجھے یقین ہے کہ اپوزیشن کسی اور کے ایجنڈے پر نہیں چلے گی۔ انہوں نے کہا کہ مذاکراتی کمیٹی میں میں نے ان لوگوں کو ڈالا ہے جو سیاسی ہیں اور سیاسی بات کو سمجھتے ہیں۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے پیر تک کا وقت مانگا ہے اگر وہ کمیٹی میں شامل نہ ہوئے تو صادق سنجرانی شامل ہونگے۔

مذاکراتی ٹیم میں پرویز الہٰی کی شمولیت کنفرم ہے۔ اپوزیشن کو ڈر ہے کہ اگر عمران خان نے اپنے 5 سال پورے کر لیے تو ان کی دکان بند ہو جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ اس بات پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے کہ اسپیکر مذاکرات کریں یا چئیرمین سینیٹ کریں۔ ہم نے پوری زندگی میں جلسے اور جلوس دیکھے ہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ حکومت قانون کی عملداری یقینی بنائے گی۔

معیشت بہتری کی طرف جا رہی ہے، ایکسپورٹ بڑھ رہی ہے۔ پرائم منسٹر کا استفعٰی ناممکن سی بات ہے۔ میں نے سھاندلی پر مبنی کمیٹی کو ہیڈ کیا ہے، اس پر 6،7 اجلاس بھی ہوئے ہیں، انہوں نے ایسی کوئی چیز پیش نہیں کی جس پر ایکشن لیا جا سکے۔

اپوزیشن کے تمام سینئیر لیڈرز کے ساتھ رابطے میں ہیں اور ہمیں رسپانس اچھا مل رہا ہے۔ مجھے امید ہے کہ وہ مذاکرات کے لیے بیٹھیں گے اور اگر نہیں بیٹھیں گے تو نقصان پاکستان کا ہو گا۔

اگر قانون کی خلاف ورزی کی گئی تو  پھر یہ معاملہ کمیٹی سے نکل جائے گا اور وزارت داخلہ سمیت دیگر ادارے اس کو دیکھیں گے۔ ہم صحیح نیت اور ارادے سے آئے ہیں۔ پرائم منسٹر نے نیک نیتی سے کمیٹی بنائی ہے۔

جمہوریت میں ٹیبل ٹاکس ہوتی ہیں، دروازے بند تو نہیں کر سکتے۔ ہم نے آفر کی ہے باقی اپوزیشن کی مرضی ہے۔

نہ فوج بلانے کی نوبت آئے گی نہ ہم اس پر غور کر رہے ہیں۔ فوج کو بلانے سے متعلق خبریں بے بنیاد ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے پاکستان کے مخالفین کے ایجنڈے پر کام ہو رہا ہے۔ شفقت محمود سمیت ہم سب آپ سے بیٹھ کر بات کرنے کو تیار ہیں۔

 

Comment here

instagram default popup image round
Follow Me
502k 100k 3 month ago
Share