قومی

بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کی دفتر خارجہ طلبی، احتجاجی مراسلہ تھمایا گیا

سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزیوں پر پاکستان کا شدید احتجاج۔ بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کی دفتر خارجہ طلبی۔ ترجمان ڈاکٹر فیصل نے احتجاجی مراسلہ تھمایا۔

بھارتی فوج کی اشتعال انگیزیوں پر بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کیا گیا۔ پاکستانی حکام کی جانب سے ایک فوجی اور 5 بے گناہ شہری شہید ہونے پر شدید احتجاج کیا گیا۔

ڈی جی ساؤتھ ایشیاء اور ترجمان ڈاکٹر فیصل نے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو باور کرایا کہ بھارتی فوج نے جورا، شاہ کوٹ، نوسہری سیکٹرز پر 19 اور 20 اکتوبر کو بلااشتعال فائرنگ کی۔ بھارتی اشتعال انگیزیوں کا بھرپورجواب دیا جاتا رہے گا۔

ذرائع کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ بھارتلائن آف کنٹرول پر فائرنگ کے ذریعے مقبوضہ کشمیر میں اپنے مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹانا چاہتا ہے۔

مخلاف فوج کی اشتعال انگیزی بین الاقوامی قوانین کے برخلاف ہے اور مذمت کے قابل ہے۔

دوسری جانب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ ہم بھارت کی جانب سے اشتعال انگیزی پر اپنے دفاع کا حق رکھتے ہیں۔ ہم وطن عزیز کا ہر سطح پر دفاع کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ معاملات کو سلجھانے کی کوشش کی ہے۔ لیکن بھارت کے اقدامات ایسے ہیں کہ وہ خطے کے امن کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔

مزید بولے کہ اقوام متحدہ کو لائن آف کنٹرول پر جاری بھارتی اشتعال انگیزی کا نوٹس لینا چاہیے۔

آپ کو بتاتے چلیں کہ بھارتی فوج نے رات کے اندھیرے میں مظفر آباد نیلم اور جہلم ویلی کے مختلف سیکٹرز میں آبادی پر گولے برسائے۔

پاک فوج نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے 9 بھارتی فوجی اہلکار ہلاک جبکہ 2 بھارتی بنکرز تباہ کیے۔ کئی بھارتی فوجی زخمی بھی ہوئے۔

بھارت پچھلے کئی عرصے سے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں کئی مرتبہ بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب بھی کیا گیا ہے۔ مگر اس کے باوجود بھی بھارتی فوج کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر معاہدے کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers