قومی

مولانا فضل الرحمان نے حکومتی کمیٹی سے مذاکرات مؤخر کر دیے

پیپلز پارٹی کی ناراضی کے بعد مولانا فضل الرحمان کا یو ٹرن۔ حکومتی ٹیم سے آج ہونے والی ملاقات منسوخ کر دی۔ حکومت سے مذاکرات کرنے ہیں یا نہیں فیصلہ کرنے کے لیے رہبر کمیٹی کا اجلاس 22 اکتوبر کو بلا لیا۔

مولانا فضل لارحمان کی جانب سے آزادی مارچ کے معاملے پر حکومتی کمیٹی اور جے یو آئی وفد کے درمیان آج ہونے والے مذاکرات منسوخ کر دیئے گئے۔

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے مولانا عبدالغفور حیدری سے مذاکرات کے لیے آج ملاقات کرنا تھی تاہم وہ اب نہیں ہو سکے گی۔

مولانا فضل لارحمان کی جانب سے مذاکرات کا اختیار اپوزيشن جماعتوں کی رہبر کمیٹی کو دے دیا گیا ہے۔ اور اس سلسلے میں رہبر کمیٹی کا اجلاس 22 اکتوبر کو ہو گا۔ اجلاس اسلام آباد ميں اکرم خان درانی کی رہائش گاہ پر ہوگا۔

حکومتی کمیٹی سے مذاکرات پر پیپلز پارٹی نے مؤقف اپنایا کہ جے یو آئی مذاکرات کا تنہا فیصلہ کیسے کر سکتی ہے۔ مذاکرات سے پہلے دیگر جماعتوں کو اعتماد میں لیا جانا چاہیئے تھا۔

ذرائع کے مطابق یہ تاثر ختم کرنے کے لیے کہ مولانا حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنے لگے ہیں، مولانا فضل الرحمان نے تمام اپوزیشن لیڈران سے رابطہ کر کے انہیں اعتماد میں لیا اور انہیں بتایا کہ مذاکرات کا فیصلہ رہبر کمیٹی کرے گی۔

مولانا کا کہنا تھا کہ کہ تمام فیصلے مشترکہ ہوں گے۔ اپوزیشن جماعتوں کو اعتماد میں لے کر آگے بڑھیں گے۔

آپ کو بتاتے چلیں کہ گزشتہ روز حکومتی کمیٹی کی جانب سے وزیر دفاع پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کے تمام سینئیر لیڈرز کے ساتھ رابطے میں ہیں اور ہمیں رسپانس اچھا مل رہا ہے۔ مجھے امید ہے کہ وہ مذاکرات کے لیے بیٹھیں گے اور اگر نہیں بیٹھیں گے تو نقصان پاکستان کا ہو گا۔

آپ کو مزید بتاتے چلیں کہ معاشی بدحالی اور جنرل الیکشن میں دھاندلی کو بنیاد بنا کر مولانا فضل الرحمان نے 27 اکتوبر کو حکومت کے خلاف اسلام آباد کی جانب مارچ شروع کرنے کا اعلان کررکھا ہے۔

 

 

 

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers