قومی

وزیراعظم عمران خان کا حب پاور جنریشن پلانٹ کی تقریب سے خطاب۔

حب پاور جنریشن پلانٹ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان  کا کہنا تھا کہ میں آج بہت خوش ہوں کیونکہ سی پیک کے اندر یہ پہلا جوائنٹ پراجیکٹ ہے۔ ہم یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ پاکستان کے بزنس مین اور انڈسٹریلسٹس بڑی چائینیز کمپنیوں سے اشتراک کریں۔

عمران خان کا تقریب سے خطاب

Posted by Aap News on Monday, October 21, 2019

 

اس طرح کے جوائنٹ پراجیکٹس پاکستان کے لیے خوشائین ہیں۔ حکومت پاکستان ہر لحاظ سے اس کے لیے مدد کرے گی۔ میری خواہش ہے کہ اس کے لیے 20 فیصد کوئلہ تھر کول پراجیکٹ سے آئے تا کہ فارن ذخائر میں بچت ہو سکے۔

ہمارا سب سے بڑا مسٔلہ کرنٹ اکاؤنٹ ڈیفیسٹ ہے۔ جب ہماری حکومت آئی تو اس میں تاریخی خسارہ تھا۔ جو کہ تقریباً 20 ارب ڈالر تک کا تھا۔ ہم چاہتے ہین کہ ہمارے سارے پراجیکٹس لوکل فیول سے بنیں۔

کراچی کے لیے ڈی سیلینیشن پلانٹ لگانا ہو گا تا کہ اس کا سب سے بڑا پانی کا مسٔلہ حل ہو۔ بزنس میں سب سے زیداہ مسٔلہ تب آتا ہے جب رکاوٹیں ہوں۔

جب سے ہماری حکومت آئی ہے ہم بزنس کے لیے آسانیاں پیدا کرتے گئے ہیں اور ہم اس بات پر مسلسل زور بھی لگا رہے ہیں۔

کہا کہ میں 22،23 سال سے کہتا آ رہا ہوں کہ کرپشن پاکستان کا سب سے بڑا مسٔلہ ہے۔ ہمیں ریکو ڈک منصوبے سے ابھی تک اربوں ڈالر مل سکتے تھے لیکن ہمیں الٹا فائن ہوا کیونکہ اس کے پیچھے کرپشن تھی۔

کارکے رینٹل پاور پراجیکٹ میں بھی پاکستان پر کیس ہوا، اس کو دیکھ کر بھی لوگ پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے نہیں آ رہے۔ ہم نے اس ملک میں اپنے مستقبل کے لیے صاق اور شفاف گورننس دینی ہے۔

اگر آج ہم مقروض ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم اچھا گورننس سسٹم نہیں دے سکے۔ چائنہ اب فشیریز میں بھی بلوچستان آ کر سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہے۔ زراعت میں ہمیں چائنہ سے ٹیکنالوجی سیکھنی ہوگی تا کہ ہم اپنی پیداوار دوگنی کر سکیں۔ ماضی میں پانی سے بجلی بنانے کے لیے کام نہیں کیا گیا۔پاکستان پانی سے 50 ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کر سکتا ہے۔

ہم نے پاکستان کی لوکیشن اور نوجوان آبادی کا استعمال کرنا ہے۔ نوجوانوں کو اپگریڈ کرنے کے لیے ہم ٹریننگ اِنسٹی ٹیوٹس بنا رہے ہیں۔ ہماری سب سے بڑی طاقت ہماری نوجوان آبادی ہے۔ ہم نے ان کو ہنر اور جدید ٹیکنالوجی سیکھانی ہے اور انہیں اپنا اثاثہ بنانا ہے۔

 

 

 

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers