قومی

مریم نواز کی پیشی، وکلاء کی پولیس سے ہاتھا پائی

چوہدری شوگر ملز کیس، گرفتار ملزم یوسف عباس اور اور مریم نواز کی پیشی کے موقع پر وکلاء آپے سے باہر۔ پولیس اہلکاروں سے ہاتھا پائی، دھکے دیے۔ مریم نواز کے جوڈیشل ریمانڈ میں 2 روز کی توسیع۔

لاہور کی احتساب عدالت میںآج چوہدری شوگرمل کیس کی سماعت مقررہوئی۔ نیب حکام کی جانب سے ملزمان مریم نواز اور یوسف عباس کو احتساب عدالت کے جج امیر محمد خان کے روبرو کیا گیا۔

سماعت میں عدالت نے نیب کے تفتیشی افسر سے پوچھا کہ ریفرنس کب دائر کیا جائے گا؟ تفتیشی افسر نے جواب دیا کہ ریفرنس آخری مراحل میں ہے۔ ریفرنس ، چئیرمین نیب کی منظوری کے بعد دائر کر دیا جائے گا۔

تفتیشی افسر نے کہا کہ ان کے اثاثے ان کی آمدن سے مطابقت نہیں رکھتے، اس لیے ان سے مزید تفتیش کرنی ہے۔

سماعت میں وکلاء اور ن لیگی کارکنان آپے سے باہ ہو گئے۔ کارکنوں اور وکلاء کی نعرے بازی کے ساتھ ساتھ پولیس اہلکاروں سے ہاتھا پائی بھی ہوئی۔

معزز جج نے مختصر سماعت کے بعد ملزمان کے جوڈیشل ریمانڈ میں 2 دن کی توسیع کرتے ہوئے انہیں 25 اکتوبر کا دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیا۔

پیشی کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ جج صاحب سے گزارش کی تھی کہ عدالت سے جیل واپس جاتے ہوئے مجھے ایک گھنٹے کیلئے والد کی عیادت کرنے دی جائے لیکن انہوں نے اجازت نہیں دی۔

اپنی صحت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ الحمد اللہ میں بالکل ٹھیک ہوں، ان سے اللہ تعالیٰ حساب لے گا۔

ذرائع کے مطابق مریم نواز نے ٹیلی فون پرنواز شریف سے گفتگو بھی کی اور والد سے بات کرتے ہوئے رو پڑیں۔

مریم نواز شریف کی پیشی کے موقع پر جوڈیشل کمپلیکس کے اندر اور باہر پولیس کی اضافی نفری کو تعینات کیا گیا، سیکیورٹی کے سخت انتظامات تھے۔

پیشی کے موقع پر جنید صفدر ،احسن اقبال، پرویز رشید، مریم اورنگزیب، سائرہ افضل تارڑ اور دیگر بھی موجود تھے۔

آپ کو بتاتے چلیں کہ 8 اگست کو مریم نواز اپنے والد اور سابق وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کے لیے کوٹ لکھپت پہنچیں تھیں۔ جہاں سے نیب حکام نے انہیں چوہدری شوگر ملز کیس میں اپنی حراست میں لیا تھا۔ نیب کی ٹیم چار گاڑیوں کے ساتھ دو راستوں سے پہنچی تھی۔ ایک راستے سے لیڈیز پولیس اہلکار اور دوسرے سے مرد پولیس حکام جیل پہنچے۔ نیب اہلکار مریم نواز کو لے کر روانہ ہوگئے تھے۔

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers