بین الاقوامیقومی

پاکستان اور بھارت کے درمیان کرتار پور راہداری معاہدے پر دستخط

سکھ برادری کا خواب تعبیر کے قریب۔ کرتار پور راہداری معاہدے پر آج دستخط ہو گئے۔ 9 نومبر کو راستے کھول دیے جائیں گے۔ معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان کہتی ہیں کہ وزیراعظم عمران خان کے ایک اور وعدے کی تکمیل ہوئی۔ منصوبہ ایک سال سے کم عرصے میں مکمل ہوا۔

 

کرتار پور راہداری پر پاکستان اور بھارت کے درمیان باضابطہ معاہدے طے پا گیا۔ پاکستان کی جانب سے ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے دستخط کیے۔ جبکہ بھارت کی جانب سےدستخط وہاں کے جوائنٹ سیکرٹری داخلہ نے کیے۔

دونوں ممالک کے درمیان بیٹھک زیرو پوائنٹ پر منعقد ہوئی۔ 9 نومبر کو یاتریوں کے لیے راستے کھول دیے جائیں گے۔

اس کے بعد بھارتی یاتری بغیر ویزا گرونانک کے گردوارے کرتارپور آسکیں گے۔ بھارت نے 20 ڈالر فی یاتری فیس وصولی کا فیصلہ تسلیم کرلیا ہے۔

معاہدے کے تحت روزانہ کی بنیاد پر 5 ہزار سکھ کرتارپور راہداری استعمال کریں گے۔ سرکاری تعطیلات اور کسی ہنگامی صورت حال میں سہولت میسر نہیں ہوگی۔

ذرائع کے مطابق پاکستان امیگریشن حکام ہر بھارتی یاتری کو ایک بار کوڈ والا کارڈ دیں گے۔ بھارتی یاتریوں کی آمد صبح 8 سے دن 12 بجے تک ہو سکے گی اور غروب آفتاب تک سب یاتریوں کو واپس جانا ہوگا۔

اس موقع پر ڈاکٹر فیصل کا کہنا تھا کہ اک شجر ایسا بھی محبت کا لگایا جائے جس کا ہمسائے کے آنگن میں بھی سایہ جائے۔ پاکستان کے تمام اداروں نے منصوبہ چلانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ سکھ یاتری ہفتے کے ساتوں دن کرتار پور دربار صاحب آسکیں گے۔

آج کرتارپور راہداری کے معاہدے پر دستخط ہوگئے ہیں۔ معاہدہ دین اسلام کی دیگر مذاہب کے لئے احترام کی تعلیمات پر مبنی خارجہ پالیسی کا مظہر ہے۔

دوسری جانب معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ آج وزیراعظم عمران خان کے ایک اور وعدے کی تکمیل ہوئی ہے۔ جس منصوبے کا سنگ بنیاد 28 نومبر 2018 کو رکھا آج ایک سال کے کم عرصہ میں پایہ تکمیل تک پہنچا دیا۔ کرتار پور راہداری معاہدہ پاکستان کے بین المذاہب ہم آہنگی اور امن کے داعی ہونے کا عملی ثبوت ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ معاہدہ احترام انسانیت اور بھائی چارے کے فروغ کے نئے روشن باب کھولے گا۔ دربار کرتارپور صاحب دنیا بھر کے سکھوں کے لیے مقدس مقام ہے۔ ہم اپنے سکھ بھائیوں کا کھلے دل سے استقبال کرتے ہیں۔

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers