قومی

لیگی رہنماؤں کی تنقید پر شرمیلا فاروقی بول پڑیں

طبی سہولتوں کے باوجود لیگی رہنماؤں کی تنقید پر شرمیلا فاروقی بول پڑیں۔ ٹویٹ میں کہا کہ میرے والد کو اوپن ہارٹ سرجری کے 3 روز بعد ہی جیل میں ڈال دیا گیا۔ روتی، منتیں کرتی رہی، لیکن نواز شریف نے کوئی مدد نہیں کی۔ سب کچھ دیکھنے کے باوجود سابق وزیراعظم کی صحت کے لیے دعا گو ہوں۔

سابق وزیراعظم نواز شریف کو ہسپتال میں ملنے والی سہولتوں کے باوجود ن لیگ کے عدم اطمینان پر پیپلز پارٹی کی رہنماء شرمیلا فاروقی بول پڑیں۔
سماجی رابطے کی ویبسائٹ ٹویٹر پر اپنے جاری کردہ ٹویٹ میں کہا کہ میرے والد کو اوپن ہارٹ سرجری کے 3 روز بعد ہی جیل میں ڈال دیا گیا تھا۔

آپ نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے شرمیلا فاروقی کا کہنا تھا کہ کسی بھی بیٹی کے لیے اپنے باپ کو تکلیف اور بیماری میں دیکھنا بہت تکلیف دے بات ہے اور اس لیے مجھے اندازہ ہے کہ مریم نواز اس وقت کس قرب سے گزر رہی ہونگی۔

بولیں کہ میری دعا ہے کہ اللہ میاں نواز شریف کو صحت عطا کرے لیکن میں نے جیسا اپنی ٹویٹ میں کہا کہ جب وہ وزیراعظم تھے اور ان کا وقت تھا۔ تب میرے والد بہت علیل تھے اور ان کی اوپن ہارٹ سرجری کے تیسرے ہی دن انہیں جیل منتقل کر دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ پہلے تو ہسپتال لے جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی تھی۔ مجبوراً ہمیں عدالت سے رجوع کرنا پڑا۔ لیکن سرجری ہونے کے بعد ہی انہیں ڈاکتر کی ہدایات کے برعکس زبردستی جیل لے جایا گیا۔ جہاں نہ انہیں پرہیزی کھانا دیا جاتا تھا اور نہ ہی ہم سے ملنے دیا جاتا تھا۔

وہ تمام چیزیں جو آج میاں صاحب کے ساتھ ہو رہی ہیں وہ تمام چیزیں میاں نواز شریف میرے والد کے ساتھ کر چکے ہیں۔

شرمیلا فاروقی نے حکومت کو بھی کہا کہ اتنی ہی تکلیف دیں جتنی وقت آنے پر آپ برداشت کر سکیں۔

Comment here

instagram default popup image round
Follow Me
502k 100k 3 month ago
Share