قومی

عدالت نے نواز شریف کی ضمانت منظور کر لی

لاہور ہائی کورٹ نے نواز شریف کی طبی بنیادوں پر ضمانت منظور کر لی۔ اس کے علاوہ نواز شریف کو بیرون ملک علاج کی اجازت بھی مل گئی۔ کورٹ میں نوازشریف کی چوہدری شوگر ملز کیس میں ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی۔  سماعت ججز کے2 رکنی بنچ پر مشتمل تھی۔

 

نیب حکام اور نواز شریف کی میڈیکل ٹیم کے سربراہ محمود ایاز میڈیکل رپورٹس لے کر عدالت میں حاضر ہوئے۔

ڈاکٹر محمود ایاز نے بتایا کہ نواز شریف کا علاج پاکستان میں ممکن ہے۔ انہیں مختلف مسائل ہیں جن میں ہائی بلڈ پریشر اور ذیابیطس کی بیماری ہے۔

ڈاکٹر نے مزید کہا کہ  ہم نے ٹیسٹ لیے ہیں نواز شریف کا بون میرو ٹھیک ہے اور ان کے خون کے خلیے جلد ٹوٹ پھوٹ رہے ہیں۔ ان کے پلیٹیلیٹس بہت جلدی گر جاتے ہیں۔

جسٹس علی باقر نجفی نے سوال کیا کہ آپ نواز شریف کے ہسپتال میں علاج کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ جس پر ڈاکٹر ایاز محمود نے جواب دیا کہ نواز شریف کی بیماری کی مکمل تشخیص نہیں ہوئی۔ نواز شریف کو بیماری ہوئی کیسے اس بات کا پتا چلا رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ نواز شریف تب سفر کر سکتے ہیں جب ان کے پلیٹ لیٹس 50 ہزار ہوں۔ ان کے پلیٹ لیٹس بنتے اور کم ہوتے ہیں۔

محمود ایاز نے مزید بتایا کہ  گزشتہ دو مہینے میں 5 کلو وزن کم ہوا ہے۔ ہم نے انہیں سٹیرائیڈز دینے شروع کردیئے ہیں۔

عدالت نے نیب کے وکیل سے سوال کیا کہ کیا نیب اس درخواست ضمانت کی مخالفت کرتا ہے؟ اس پر نیب کے وکیل نے جواب دیا کہ اگر نواز شریف کا علاج پاکستان میں ممکن ہے تو ادھر ہی علاج ہونا چاپیے۔  اگران کی صحت خطرے میں ہے تو ہمارے پاس کوئی اور آپشن نہیں ہے۔

تمام دلائل سننے کے بعد لاہور ہائی کورٹ نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے سابق وزیراعظم نواز شریف کی درخواست ضمانت منظور کرلی اور ایک کروڑ روپے کے 2 ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم بھی دیا۔ نوازشریف کی ضمانت چوہدری شوگرملزکیس میں منظور کی گئی ہے۔

 

آپ کو بتاتے چلیں کہ چند دن پہلے سابق وزیراعظم نواز شریف کو طبیعت خراب ہونے پر سروسز ہسپتال منتقل کر دیا گیا تھا۔ ان کے خون میں پلیٹلیٹس کی تعداد بہت گر چکی تھی۔ 6 سے 10 ڈاکٹرز پر مشتمل میڈیکل بورڈ ان کا معائنہ کر رہا ہے۔

 

 

Comment here

instagram default popup image round
Follow Me
502k 100k 3 month ago
Share