قومی

حکومت کی مذاکراتی کمیٹی اور اپوزیشن میں ڈیڈلاک برقرار

آزادی مارچ کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن کی بیٹھک کی اندرونی کہانی۔ جلسے کے مقام پر ڈیڈلاک برقرار۔ حکومتی کمیٹی آج مذاکرات کی رپورٹ وزیراعظم کو دے گی۔ مزید مذاکرات کرنے ہیں یا نہیں فیصلہ عمران خان کریں گے۔ معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان کہتی ہیں کہ فضل الرحمان اپنی انا اور ضد کے خول سے باہر نکلیں۔

حکومت کی جانب سے مقرر کی گئی مذاکراتی کمیٹی نے پرویز خٹک کی قیادت میں اکرم درانی کی رہائش گاہ پر اپوزیشن کی رہبر کمیٹی سے مذاکرات کیے۔

اپوزیشن نے مطالبات پیش کیے کہ وزیراعظم استفعٰی دیں، نئے انتخابات کرائے جائیں، عامی حقوق کی بالادستی ہو اور اس کے علاوہ آزادی مارچ میں کسی قسم کی رکاوٹ پیش نہ کی جائے۔

پرویز خٹک نے رہبر کمیٹی کو باور کرا دیا کہ استعفے کے مطالبے کے علاوہ آپ کا ہر مطالبہ سننے کے لیے تیار ہیں۔ اس کے علاوہ جلسے کے مقام پر بھی دونوں کمیٹیوں میں ڈیڈلاک برقرار رہا۔

حکومت کی مذاکراتی کمیٹی میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی، اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی، وفاقی وزراء شفقت محمود، نورالحق قادری اور اسد عمر بھی شامل تھے۔

آج وزیر دفاع پرویز خٹک وزیراعظم عمران خان کو مذاکرات کے حوالے سے رپورٹ پیش کریں گے۔ پرویز خٹک وزیراعظم سے اپوزیشن سے ہونے والی بات چیت پر مشاورت کریں گے۔ وزیراعظم عمران خان حکومتی کمیٹی کے رہبر کمیٹی سے مزید مذاکرات کا فیصلہ بھی کریں گے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کا رویہ غیر جمہوری اور ہٹ دھرمی پر مبنی ہے عدالتی فیصلے کی روشنی میں آزادی مارچ کو ڈی چوک تک آنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔

دوسری جانب سماجی رابطے کی ویبسائٹ ٹویٹر پر وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ فضل الرحمان اپنی انا، ضد اور ذات کے خول سے باہر نکلیں۔ پاکستان کو درپیش چیلنجز کے تناظر میں اتحاد اور یکجہتی وقت کی اہم ضرورت ہے۔قومی ترقی کے حصول اور پاکستان کو عظیم تر بنانے کیلئے سب کو مل کر کاوشیں کرنا ہوں گی۔

Comment here

instagram default popup image round
Follow Me
502k 100k 3 month ago
Share