بین الاقوامی

امریکی ارکانِ کانگریس کے مقبوضہ کشمیر پر بھارتی سفیر سے سخت سوالات

امریکی ارکانِ کانگریس کا مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر اظہارِ تشویش۔ بھارتی سفیر کو خط لکھ دیا۔ بتایا جائے کہ 5 اگست سے اب تک کتنی گرفتاریاں ہوئی؟ وادی میں حالات کیسے ہیں؟ صحافیوں کو دورے کی اجازت کیوں نہیں دی جا رہی؟ کیا بھارت ارکانِ کانگریس کو مقبوضہ کشمیر جانے کی اجزت دے گا؟ خط میں سوالات۔

جمعرات کے دن امریکی کانگریس کے چھ ارکان نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی تشویشناک صورتحال پر امریکہ میں تعینات ہندوستانی سفیر ہرش وردھن شرنگلا کو خط لکھا۔

ارکان کی جانب سے لکھے گئے خط کے مطابق کشمیرپرآرٹیکل 370 کا خاتمہ اورکرفیوکا نفاذ تشویشناک ہے۔

خط میں لکھا کہ کشمیر کی حیثیت بدلنے کے حوالے سے ہمارے لوگوں کو خدشات ہیں۔ اس لیے برائے مہربانی چند سوالات کے جواب دیں۔

خط میں سوالات کیے گئے کہ کیا بھارت ربڑکی گولیوں سے بچوں سمیت نابینا ہونے والوں کی تعداد بتا سکتا ہے؟ کیا بھارت ارکانِ کانگریس کو مقبوضہ کشمیر جانے کی اجزت دے گا؟

مزید پوچھا کہ 5 اگست سے اب تک بچوں سمیت کتنے کشمیری گرفتار ہوئے ہیں؟ کیا اس وقت مقبوضہ کشمیرمیں کرفیونافذ ہے؟ کرفیو اٹھا کر لوگوں کی زندگیاں کب بحال ہونگی؟

کیا مقبوضہ کشمیر میں مواصلات اور انٹرنیٹ بحال کر دیا گیا؟ مواصلات اور انترنیٹ کی بحالی کب ہو گی؟

اس کے علاوہ خط میں بھارتی سفیر سے کشمیر سے متعلق امور خارجہ کمیٹی کے خدشات پر تفصیلات فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

خط امریکی کانگریس کے اراکین س ڈیوڈسیسی لائن، دیناٹائی ٹس،کریسی ہولاہان ،اینڈی لیون، جیمز میکگوورن اور سوسا وائلڈ کی جانب سے لکھا گیا ہے۔

آپ کو بتاتے چلیں کہ 5 اگست کو راجیہ سبھا میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا بل پیش کرنے سے پہلے ہی صدارتی حکم نامے کے ذریعے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی تھی اور ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر کو اپنی وفاقی حکومت کے زیرِ انتظام دو حصوں میں تقسیم کردیا تھا۔

اس کے ساتھ ہی مودی سرکار اور قابض بھارتی فوج نے وادی میں کرفیو لگا کر مکمل طور پر اسے جیل میں تبدیل کر دیا ہے۔

Comment here

instagram default popup image round
Follow Me
502k 100k 3 month ago
Share