بین الاقوامی

دنیا بھر میں آج کشمیری یوم سیاہ منا رہے ہیں

مقبوضہ کشمیر میں 72 سالوں پر محیط ظلم کی لمبی رات۔ 27 اکتوبر 1947 جب بھارت نے اپنی فوج کشمیر میں اتاری اور پھر کشمیری جبر کی چکی میں پسنے لگے۔ ہندوستان کے غیرقانونی اقدام کے بعد پاکستان سمیت دنیا بھر میں مظاہرے۔ ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں اظہار یکجہتی کی ریلیاں۔

پاکستان سمیت دنیا بھر میں پاکستانی و کشمیریوں کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں غیر قانونی بھارتی قبضے کے خلاف آج یوم سیاہ منایا جا رہا ہے۔ ملک کے مختلف شہروں میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے ریلیاں نکالی جا رہی ہیں۔

کراچی سے پشاور اور کشمیر تک صرف ایک ہی نعرہ ہے کہ کشمیریوں کو آزادی دو۔ 27 اکتوبر،1947 کے دن بھارتی فوج مقبوضہ جموں وکشمیر میں داخل ہوئی اور کشمیریوں کی خواہش اور برصغیر کی تقسیم کے منصوبے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہاں اپنا قبضہ قائم کرلیا۔

آج کے روز ملک بھر میں کاروباری مراکز بند کیے جائیں گے، جلسے، جلوس، مظاہرے ہوں گے اور اس کے علاوہ چند مقامات پر دھرنا بھی دیا جائے گا۔

حریت لیڈر علی گیلانی کی سربراہی میں جماعتی حریت کانفرنس آج لال چوک سری نگر کی طرف مارچ کرے گی۔ بھارتی فوج نے مقبوضہ وادی میں اپنی نفری بڑھا دی ہے۔ چپے چپے پر فوجی اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں۔ آج کرفیو کے باوجود بھی وادی میں جگہ جگہ احتجاج جاری ہیں۔

مظفرآباد میں بھی وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر اور دیگر خطاب کریں گے۔

آج یوم سیاہ منانے کیلئے کشمیری نوجوان تمام بندشیں توڑتے ہوئے مظاہروں میں شریک ہو رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھمقبوضہ کشمیر کے بازار اور مارکیٹیں‌ بند ہیں‌ جس کے سبب غذائی بحران مزید سنگین ہو گیا۔ آج کا دن کشمیریوں کو 72 سال قبل جبری قبضے کی یاد دلا رہا ہے۔

آپ کو بتاتے چلیں کہ 5 اگست کو راجیہ سبھا میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا بل پیش کرنے سے پہلے ہی صدارتی حکم نامے کے ذریعے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی تھی اور ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر کو اپنی وفاقی حکومت کے زیرِ انتظام دو حصوں میں تقسیم کردیا تھا۔

اس کے ساتھ ہی مودی سرکار اور قابض بھارتی فوج نے وادی میں کرفیو لگا کر مکمل طور پر اسے جیل میں تبدیل کر دیا ہے۔

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers