قومی

لاہور: میٹرو اورنج لائن ٹرین کا ٹیسٹ رن دردِ سر بن گیا

لاہور میں ذیرِ تعمیر میٹرو اورنج ٹرین کا ٹیسٹ رن پنجاب حکومت کے لیے دردِ سر بن گیا۔ ٹیسٹ رن کے لیے دو بار ڈیڈلائن دی گئی مگر ٹرین نہ چل سکی۔

صوبائی دارالحکومت لاہور میں مہنگے ترین میگا پراجیکٹ اورنج لائن میٹرو ٹرین کو فعال کرنا حکومت کے لیے مسٔلہ بن گیا۔ دوری بار ٹرین کا ٹیسٹ رن منصوبہ ملتوی کرنا پڑا۔ پنجاب حکومت نے 22 اکتوبر کو اورنج ٹرین کے ٹیسٹ رن کا فیصلہ کیا تھا جو پورا نہ ہو سکا۔ پھر وزیراعلیٰ پنجاب کے زیرِ صدارت اجلاس میں 28 اکتوبر کو بجلی کے ذریعے ٹیسٹ رن کا اعلان کیا گیا تھا مگر ایک بار پھر عمل درآمد نہ ہو سکا۔

باقاعدہ ٹیسٹ رن کے لیے ایل ڈی اے اور ماس ٹرانزت اتھارٹی کو نئے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔

ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ اب 10 سے 15 نومبر تک ٹیسٹ رن ہو گا۔ ٹرین کا ٹریک اور الیکٹریکل کام مکمل نہ ہونے کی وجہ سے ٹیسٹ رن مؤخر کیا گیا۔

کہا جا رہا ہے کہ آئیندہ ماہ جزوی نہیں بلکہ مکمل ٹریک پر ٹیسٹ رن ہو گا۔

آپ کو بتاتے چلیں کہ حکومت نے تمام محکموں کو اعتماد میں لیے بغیر ٹیسٹ رن کی تاریخ کا اعلان کر دیا تھا۔ ٹرین کے لیے 2 بجلی کے گرڈ اسٹیشن تیار ہو چکے ہیں لیکن ابھی تک ان کو ٹرین کے ساتھ لنک نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے آج ہونے والے ٹیسٹ رن کا فیصلہ مؤخر کرنا پڑا۔

آپ کو بتاتے چلیں کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبے کی تکمیل میں تاخیر پر برہمی کا اظہارکیا تھا۔ اس لیے منصوبے کی تکمیل کیلئے اگلے سال جنوری تک کی آخری مہلت دی گئی تھی۔

Comment here

instagram default popup image round
Follow Me
502k 100k 3 month ago
Share