قومی

آزادی مارچ کا قافلہ ملتان سے لاہور کے لیے روانہ

جے یو آئی ف کے آزادی مارچ کا ملتان میں پڑاؤ، آج لاہور کے لیے نکلے گا۔ معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کہتی ہیں کہ ڈنڈوں اور اسلحے کی موجودگی میں صورتحال کی ذمہ داری مولانا پر عائد ہوگی۔ جمہوری جدوجہد کا دعویٰ کرنے والوں کے ہاتھ میں کلاشنکوف کی موجودگی کا کیا مطلب ہے؟

جمیعت علمائے اسلام ف کے آزادی مارچ کا دوسرا مرحلہ، آج ملتان سے کارواں آج لاہور کیلئے روانہ ہوگا۔ بلوچستان، سندھ اور جنوبی پنجاب کے تمام قافلے ملتان پہنچ گئے ہیں۔ اس سے قبل ذرائع کے مطابق احمد پور شرقیہ میں ٹول پلازہ پر مولانا فضل الرحمان نے شرکاء سے مختصر ملاقات کی اور مصافحہ بھی کیا۔

لاہور میں اتحادیوں کی جانب سے ٹھوکر، ملتان چونگی، سمن آباد اور بتی چو ک سمیت جگہ جگہ استقبال کی تیاریاں مکمل کر لی گئیں۔ پیپلزپارٹی کی جانب سے ثمن آباد کے علاقے میں کیمپ قائم کیا گیا ہے۔مسلم لیگ نواز نے چوبرجی میں آزادی مارچ کے شرکاء کے لیے کیمپ قائم کیا ہے۔

ٹھوکرنیاز بیگ میں جمعیت علمائے اسلام کے رہنما آزادی مارچ کا استقبال کریں گے۔ آزادی مارچ کے تمام قافلوں کا قیام مینار پاکستان، بادشاہی مسجد اور اِرد گِرد کی مساجد و مدارس میں ہو گا۔

راوی روڈ پر بھی آزادی مارچ کے شرکاء کے استقبال کے لیے کیمپ قائم ہے۔

ذرائع کے مطابق آزادی مارچ کے لاہور پہنچنے پر مینار پاکستان (آزادی چوک پل) پر جلسہ عام ہو گا، جس سے مرکزی قائدین خطاب فرمائیں گے۔

دوسری جانب معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کا سماجی رابطے کی ویبسائٹ پر کہنا ہے کہ حکومت نے جمہوری روایات کی پاسداری میں احتجاج کا حق دیا۔ مولانا فضل الرحمان کے جلوس میں جدید آتشیں اسلحہ کی موجودگی پر تشویش ہے۔ جمہوری جدوجہد کا دعویٰ کرنے والوں کے ہاتھ میں کلاشنکوف کی موجودگی کا کیا مطلب ہے؟

ایک اور ٹویٹر پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ ڈنڈوں اور اسلحہ کی موجودگی میں تمام صورتحال کی ذمہ داری مولانا فضل الرحمان پر ہے۔ ایک کالعدم تنظیم کی بارکھان میں لیویز فورس پر حملہ آور ہونے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔

Comment here

instagram default popup image round
Follow Me
502k 100k 3 month ago
Share