قومی

سندھ کے اساتذہ کو احتجاج مہنگا پڑ گیا

سندھ بھر کے سرکاری کالجز کے اساتذہ کو اپنا حق مانگنا مہنگا پڑ گیا۔ پولیس نے مظاہرہ کرنے والے اساتذہ پر لاٹھیاں برسا دیں۔ خواتین سمیت متعدد مظاہرین کو حراست میں لے کر تھانے بند کر دیا گیا۔ دھرنے کے باعث ٹریفک کا نطام کئی گھنٹوں تک درہم برہم رہا۔

تنخواہوں میں اضافہ، ترقی اور واجبات کی ادائیگی کے لیے سندھ بھر کالجز کے پروفیسرز اور لیکچرارز کا احتجاج۔ مظاہرین نے وزیراعلیٰ ہاؤس جانے کی کوشش کی تو پولیس آڑے آ گئی۔ مظاہرین نے وزیراعلیٰ ہاؤس کے قریب پی آئی ڈی سی چوک پر دھرنا دے دیا۔

اساتذہ کو منانے کے لیے سندھ کے صوبائی وزیر اسماعیل راؤ بھی پہنچے مگر مذاکرات ناکام ہو گئے۔ پولیس مظاہرین پر ٹوٹ پڑی، اساتذہ پر لاٹھیاں برسائیں اور 50 سے زائد مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔

اساتذہ کا کہنا تھا کہ ہم اپنے حقوق کے لیے یہاں لڑ رہے ہیں، ہم اس عمل کی مذمت کرتے ہیں۔ حراست میں لئے گئے لوگوں کو رہا کیا جائے۔

بعد ازاں اساتذہ کراچی پریس کلب واپس پہنچے اور مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کر دیا۔
اساتذہ کے دھرنے کے باعث ٹریفک کا نظام کئی گھنٹوں تک درہم برہم رہا اور شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers