قومی

اسمبلی میں پرویز خٹک کی تقریر کے دوران ‘گو عمران گو’ کے نعرے

قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن اور حکومتی ارکان میں گرما گرمی۔ حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ پرویز خٹک کی تقریر کے دوران اپوزیشن ارکان کا شور شرابہ، ‘گو عمران گو’ کے نعرے۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ اور وزیرِدفاع پرویز خٹک نے اپوزیشن سے کہا کہ آج دل سے بولنا چاہتا ہوں، کیا آپ لوگ سنیں گے؟ میں آپ کی شکل پاکستان کو دکھانا چاہتا ہوں کہ آپ پاکستان کے ساتھ کیا کر رہے ہیں۔ سن لیں یہ تماشہ نہیں چلے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ مولانا فضل الرحمان صاحب کہتے ہیں ہم ٹائم پاس کررہے ہیں۔ اگر ہم ٹائم پاس کریں تو تم لوگ کیا کرسکتے ہو۔ جمہوریت کی بات کرتے ہیں۔ تو پھر آئیں ٹیبل پر بیٹھیں۔

آپ پاکستان میں ایماندار قیادت برداشت نہیں کرسکتے۔ صبر کریں، ابھی آپ کو بہت کچھ دیکھنا پڑے گا۔ حکومتی مذاکراتی کمیٹی کو متنازعہ بنایا جا رہا ہے۔ جتنی دیر دھرنا دینا ہے دو مگر پاکستان کا نقصان نہ کرنا۔ آپ لوگوں نے ملک کا بیڑہ غرق کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں آپ کی شکل دیکھ کر شرمندہ ہوں اسی لیے وزارت چھوڑ کر عمران خان کا ساتھ دیا۔ میں انتظار میں تھا کہ کوئی وفادار بندہ آئے۔ مجھے علی امین گنڈا پور پر فخر ہے جنہوں نے مولانا فضل الرحمان کو چیلنج کیا۔

پرویز خٹک کی تقریر کے دوران اپوزیشن ارکان نے خوب ہنگامہ اور شور شرابہ کیا۔ انہوں نے ‘گو عمران گو’ کے نعرے بھی لگائے۔

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers