قومی

شاعرِ مشرق علامہ اقبال کا 142واں یومِ پیدائش

شاعرِ مشرق علامہ اقبال کا 142واں یومِ پیدائش۔ مزار پر گارڈز کی تبدیلی کی پروقار تقریب۔ پاک بحریہ کے دستے نے فرائض سنبھال لیے۔ برصغیر کے مسلمانوں میں بیداری کی لہر پیدا کرنے والے اقبال کی فکر آج بھی زندہ۔
ہر سال کی طرح اس سال بھی 9 نومبر کو پورے پاکستان میں شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کے یوم پیدائش کو یوم اقبال کے طور پر منایا جا رہا ہے۔
اس حوالے سے ان کے آبائی شہر سیالکوٹ میں ڈپٹی کمشنر کی جانب سے عام تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے۔
سیالکوٹ میں واقع ان کے کا گھر جو کہ پاکستان کی تاریخ کا ورثہ سمجھا جاتا ہے آج عام عوام کے لیے کھول دیا گیا ہے۔

اقبال 9 نومبر 1877 کو سیالکوٹ میں ایک کشمیری گھرانے میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا کنبہے کا تعلق کشمیری برہمن سپروسے تھا جس نے اسلام قبول کرلیا تھا۔ 19 ویں صدی میں جب سکھ سلطنت کشمیر فتح کررہی تھی تو ان کے دادا کا کنبہ پنجاب منتقل ہوگیا۔

اقبال نے ابتدائی تعلیم سیالکوٹ میں حاصل کی۔ میٹرک مشن سکول اور انٹر مرے کالج سے کیا۔ اس کے بعد بی اے کی ڈگری گورنمنٹ کالج لاہور اور ایم اے کی ڈگری پنجاب یونیورسٹی سے حاصل کی جس کے بعد وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرون ملک چلے گئے۔

لاہور میں ان کے مزار پر گارڈز کی تبدیلی کی پُروقار تقریب ہوئی منعقد ہوئی۔ پاک بحریہ کے دستے نے فرائض سنبھالے۔ تقریب کے مہمان خصوصی اسٹیشن کمانڈر لاہور کموڈورنعمت اللہ تھے۔
اس کے ساتھ ساتھ ان کے مزار پر پھولوں کی چادر چڑھائی گئی اور فاتحہ خوانی بھی ہوئی۔ معزز مہمان نے مہمانوں کی کتاب میں تاثراث درج کئے۔

شاعر مشرق علامہ محمد اقبال نے شاعری کے ذريعے سوئی ہوئی قوم کو بیدار کیا۔ برصغیر کے مسلمانوں میں بیداری کی لہر پیدا کرنے والے اقبال کی فکر آج بھی زندہ ہے۔
1930 میں الہ آباد میں اعلامہ اقبال کی جانب سے پیش کیے گئے دو قومی نظریے اور علیحدہ قومیت کے تصور نے پاکستان کی راہ ہموار کی۔
اقبال کی شاعری آج بھی قوم کے نوجوانوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers