بین الاقوامی

بھارتی سپریم کورٹ نے مسلمانوں کی بابری مسجد کی زمین ہندوؤں کو دے دی

بابری مسجد پر رام مندر بنے گا۔ بھارتی سپریم کورٹ نے مسلمانوں کی زمین ہندوؤں کو دے دی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ 12ویں اور 16ویں صدی کے بیچ مسجد کی جگہ کیا تھا۔ اس کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ مندر گرا کر مسجد تعمیر کرنے کے کوئی شواہد نہیں ملے۔ سنی وقف بورڈ نے عدالتی فیصلہ نا انصافی قرار دے دیا۔

 

پاکستان نے کرتار پور راہداری کھول کر مذہبی رواداری کی روایت قائم کی تو بھارت نے اپنے ملک میں بسنے والے مسلمانوں پر ظلم کی انتہا کر دی ہے۔

کرتار پور راہداری کے دن بابری مسجد تانزعہ کا گھناؤنا فیصلہ کئی سوالات اٹھاتا ہے۔ بھارتی سپریم کورٹ کی جانب سے فیصلے کی تاریخ آج ہی کے دن رکھی جانے سے مودی سرکار کی مسلمانوں سے نفرت مکمل طور پر عیاں ہو گئی ہے۔

بھارتی سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے بابری مسجد کیس کا فیصلہ سنایا۔ جج کا کہنا تھا کہ بابری مسجد کیس کا فیصلہ متفقہ ہے۔ ہندواس جگہ کو رام کی جائے پیدائش جب کہ مسلمان اس جگہ کو بابری مسجد کہتے ہیں۔

بابری مسجد خالی زمین پر تعمیر نہیں کی گئی، مسجد کے نیچے غیر اسلامی عمارتی ڈھانچہ موجود تھا۔

عبادت گاہوں کے مقام سے متعلق ایکٹ تمام مذہبی کمیونٹیز کے مفادات کا تحفظ کرتا ہے۔ الہ باد ہائی کورٹ کی جانب سے متنازع زمین کی تقسیم کا فیصلہ غلط تھا۔

شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ مسجد کی جگہ پر رام کی جنم بھومی تھی۔ بابری مسجد کی جگہ ہندوؤں کو مشروط طور پر دی جائیگی۔ مسلمانوں کو مسجد کی تعمیر کے لئے متبادل زمین دی جائے اور زمین کا بٹوارہ نہیں کیا جائے گا۔

بھارتی سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو حکم دیا ہے کہ علاقے میں اعتماد کی فضا قائم کر کے 3 سے 4 ماہ کے اندر اسکیم تشکیل دے کرزمین کو مندر کی تعمیر کے لئے ہندووں کے حوالے کرے۔

باقاعدگی سےنمازکی ادائیگی کےباوجودبابری مسجد کبھی ویران نہیں رہی۔ مسلمانوں نے کبھی بھی بابری مسجد پر قبضہ نہیں کھویا۔

بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کی متنازع 2 اعشاریہ 77 ایکٹر زمین مرکزی حکومت کے حوالے کر دی۔

آپ کو بتاتے چلیں کہ سنی اورشیعہ وقف بورڈز کی جانب سے درخواستیں 1946 میں فیض آباد کی عدالت کے فیصلے کے خلاف دی گئی تھیں۔

بابری مسجد کو 1528 میں مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر نے تعمیر کرایا تھا اور اسی وجہ سے یہ مسجد بابری مسجد کہلاتی ہے۔

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers