قومی

فوٹو شوٹ کے لیے تاریخی مساجد کی بے حرمتی پرعوام اورعلماء برہم

لاہور میں فوٹو شوٹ کے لیے تاریخی مساجد کی بے حرمتی پرعوام اورعلماء غصے میں آ گئے ہیں۔ مسجد وزیر خان میں ڈرامے کی ریہرسل رکوا کر فنکاروں کو باہر نکال دیا۔ بادشاہی مسجد، موتی مسجد اور مسجد وزیر خان میں نکاح کا فوٹو شوٹ اور ڈرامہ شوٹنگز کا رواج بن چکا ہے۔

 

لاہور کی جتنی تاریخی مسجدیں ہیں جن میں بادشاہی مسجد، مسجد وزیر خان اور موتی مجد شامل ہیں، ایسی تمام بڑی مساجد میں برائیڈل فوٹو شوٹ کے ساتھ ساتھ ڈراموں کی شوٹنگ اور نکاح کا شوٹ کے لیے بھی لاکھوں روپے دے کر اجازت لی جاتی ہے۔ اس وجہ سے مسجد کا تقدس پامال ہوتا ہے۔

ایسی ہی ایک چیز بمع فوٹیج منظر عام پر آئی ہے جس میں مسجد وزیر خان میں باقاعدہ شوٹنگ جاری تھی اور وہاں ڈریسنگ روم کا بھی اہتمام کیا گیا تھا جہاں ڈریسز بدل بدل کر شوٹنگ کی جا رہی تھی۔

آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے اراکین اور علماء نے وہاں آ کر شوٹنگ رکوائی اور لوگوں کو باہر جانے کا کہا اور اسی کے ساتھ اتھ یہ بھی کہا کہ یہاں شوٹنگ کی اجازت نہیں۔

ذرائع کے مطابق گزشتہ دنوں موتی مسجد کے اندر بھی ایسا ہی ایک شوٹ کروایا گیا ہے۔ اس شوٹ کی کوئی باقاعدہ اجازت نہ تھی لیکن پیسے لے کر وہاں شوٹنگ کرنے دی گئی۔ آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے لوگوں نے وہاں جا کر بھی اس شوٹ کو رکوایا۔

اسی طرح بادشاہی مسجد میں بھی پیسے دے کر فوٹو شوٹس کروائے جاتے ہیں۔ شوٹس کے دوران ایسی تصاویر بنائی جاتی ہیں جو کہ مساجد کے اندر نہین بنانی چاہیے۔

فوٹو شوٹس کا عمل روز بروز بڑھتا جا رہا ہے اور ڈرامہ اور برائیڈل شوٹنگز کامسجد میں رواج تیزی سے بڑھ چکا ہے۔

اس عمل کے لیے باقاعدہ سرکاری طور پر قیمت بھی وصول کی جاتی ہے۔

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers