بین الاقوامی

پاکستان سمیت دیگر ملکوں میں بھی سورج گرہن کا نظارہ کیا گیا

پاکستان سمیت دنیا بھر میں سال کے آخری سورج گرہن کا نظارہ۔ مساجد میں نمازِ کسوف کی ادائیگی۔ متحدہ عرب امارات میں سورج رنگ آف فائر بن گیا۔ سری لنکا میں بھی گرہن کے نظارے، لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ بھارت، انڈونیشیا اور تھائی لینڈ میں بھی سورج کو گرہن لگا۔ ہٹلر مودی کالا چشمہ لگا کر سورج دیکھنے نکلے مگر سورج بادلوں سے ہی نہ نکلا۔ بھارتی وزیراعظم کی سب تیاریاں دھری رہ گئیں۔

پاکستان میں سورج کو گرہن لگا۔ گرہن آٹھ بجکر سینتیس منٹ پر عروج پر پہنچا۔ گرہن لگنے کا یہ عمل دوپہر ایک بجے کے قریب ختم ہوا۔ متعدد لوگوں نے سورج گرہن کو حفاظتی چشمہ لگا کر دیکھا ۔

اس سال کے آخری سورج گرہن کو ’رنگ آف فائر‘ کا نام دیا گیا ہے کیوں کہ سورج کو جب گرہن لگتا ہے تو مکمل طور پر چاند کی وجہ سے ڈھک جاتا ہے اور گرہن کی وجہ سے صرف سورج کے کنارے ہی نظر آتے ہیں۔

متحدہ عرب امارات، سری لنکا، بھارت انڈونیشیا، تھائی لینڈ میں بھی سورج گرہن کو دیکھا گیا۔ بھارتی وزیراعظم ہٹلر مودی بھی کالا چشمہ لگا کر سورج دیکھنے نکلے مگر سورج بادلوں سے ہی نہ نکلا۔ ان کے تمام انتظامات دھرے کے دھرے رہ گئے۔

سورج گرہن کے موقع پر ملک کے بیشتر شہروں کراچی، کوئٹہ، پشاور، اسلام آباد اور دیگر میں مختلف مقامات پر نماز کسوف ادا کی گئی۔ جس کے بعد ملک کی سلامتی کے لیے خصوصی دعائیں مانگی گئیں۔ علمائے کرام کا کہنا تھا کہ سورج گرہن اللہ کی نشانیوں میں سے ایک ہے۔ ان لمحات میں نماز کسوف ادا کی جائے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان میں سورج گرہن کا آغاز کراچی سے صبح 7 بج کر 37 منٹ پر ہوا۔ 8 بج کر 58 منٹ پر سورج گرہن کو واضح طور پر دیکھا گیا۔ شہر قائد میں سورج گرہن کا دورانیہ 2 گھنٹے 32 منٹ رہا۔ 10 بج کر 19 منٹ پر سورج گرہن ختم ہوگیا۔ حیرت انگیز نظارہ دو گھنٹے 40 منٹ تک جاری رہا۔

آپ کو بتاتے چلیں کہ پاکستان میں 20 سال بعد ایسا سماں دکھائی دیا۔ اس سے قبل پاکستان میں ایسا سوررج گرہن 1999 میں جزوی طور پر دیکھا گیا تھا۔

Comment here

instagram default popup image round
Follow Me
502k 100k 3 month ago
Share