قومی

سردی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی گیس غائب

سردی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی گیس غائب۔ کراچی میں 6 گھنٹے کی بندش کے بعد صرف 8 گھنٹے ہی سی این جی مل سکی۔ گھریلو صارفین بھی پریشان۔ کھانا پکانے میں مشکلات کا سامنا۔

جمعے کی رات کو تقریباً 10 بجے کراچی کے شہریوں کے لیے سی این جی کھولنے کا اعلان کیا گیا۔ شہر بھر کے سی این جی اسٹیشنز پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں اور سخت سردی کے ہوتے ہوئے بھی اپنی باریوں کا انتظار کرنے والے شہریوں کا پارہ گرم نظر آیا۔

اس دوران کسی کو سی این جی ملی تو کوئی صرف ہاتھ ملتا رہ گیا۔ سی این جی اسٹيشنز گزشتہ رات سے صرف 8 گھنٹے کے لیے کھولے گئے تھے۔

اس سلسلے میں سوئی سدرن گیس انتظامیہ کا کہنا ہے کہ گیس پریشر میں کمی کی وجہ سے سی این جی اسٹیشنوں کو گیس کی فراہمی روک دی جاتی ہے۔

کراچی کے رہایشی علاقوں میں گیس پریشر بدستور کم ہونے سے گھروں میں کھانا پکانا بھی دشوار ہو گیا، پنجاب میں بھی گیس کا بحران برقرار ہے۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ آئندہ سی این جی اسٹیشن کھولنے کا اعلان گیس پریشر کو دیکھتے ہوئے کیا جائے گا۔

وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب کہتے ہیں صوبائی حکومت گیس پائپ لائنوں کے لیے راستہ نہیں دے رہی جس کی وجہ سے کام مکمل نہیں ہوا، سندھ حکومت ایل این جی خریدنے کے لیے بھی تیار نہیں، ایس ایس جی سی کو گیس پریشر بہتر کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم حکومت سندھ کے ساتھ تعاون کو تیار ہیں وہ اپنی من مانی کی سزا عوام کو نہ دے، اگر حکومت سندھ سوئی سدرن کو مطلوبہ رستہ دے تو ہم گیس پائپ لائن تعمیر کر کے گیس بحران حل کر دیں گے۔

دوسری جانب وزیر اطلاعات سندھ سعید غنی نے عمر ایوب کے سندھ حکومت پر عائد الزامات من گھڑت اور بھونڈے قرار دیتے ہوئے کہا کہ اپنی نااہلی کا الزام دوسروں پر نہیں لگایا جا سکتا۔ سندھ میں گیس قلت کی ذمے دار وفاقی حکومت ہے۔

Comment here

instagram default popup image round
Follow Me
502k 100k 3 month ago
Share