بین الاقوامی

جنرل سلیمانی کو مارنے کا فیصلہ جنگ روکنے کے لیے کیا: ٹرمپ

امریکی صدر ٹرمپ کہتے ہیں کہ جنرل سلیمانی کو مارنے کا فیصلہ جنگ روکنے کے لیے کیا۔ ہزاروں امریکیوں کے قاتل کو بہت پہلے مار دینا چاہیے تھا۔ ہم یہ جان کر سکھ کا سانس لے سکتے ہیں کہ ان کی دہشت ختم ہوئی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایرانی کمانڈر قاسم سلیمانی کو جنگ شروع کرنے کیلئے نہیں بلکہ جنگ ختم کرنے کیلئے مارا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے گزشتہ رات جو کیا وہ بہت پہلے ہی ہو جانا چاہیے تھا اور کئی انسانی جانیں محفوظ ہوتیں۔

اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ حال ہی میں قاسم سلیمانی کی سربراہی میں ایران میں مظاہرین پر وحشیانہ ظلم کیا گیا جہاں ان کی اپنی حکومت کی طرف سے ایک ہزار سے زائد بے گناہ شہریوں پر تشدد اور انہیں قتل کیا گیا۔

انہوں نے مزید لکھا کہ جنرل قاسم سلیمانی نے ہزاروں امریکیوں کو قتل اور زخمی کیا۔ قاسم سلیمانی مزید کئی امریکیوں کو مارنے کی منصوبہ کر رہے تھے۔ وہ براہ راست یا بلا واسطہ لاکھوں لوگوں کے قتل کا ذمہ دار تھے۔

صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ قاسم سليمانی امريکی سفارت کاروں اور فوجيوں پر حملوں کی پلاننگ کر رہے تھے۔ ہم نے ايکشن ليا اور انہیں ختم کرديا۔

صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ امریکا کی پالیسی ہے کہ جو ہمارے شہریوں کیلئے خطرہ ہوگا اس کا خاتمہ کردیا جائے۔ ہم اپنے سفارت کاروں، فوجيوں، تمام امريکيوں کی حفاظت کريں گے۔ ہم اپنے اتحاديوں کی بھی حفاظت کريں گے۔

آپ کو بتاتے چلیں کہ بغداد ایئر پورٹ پر امریکی راکٹ حملے میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی سمیت 8 افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔

پینٹاگون کا کہنا تھآ کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے احکامات پر ایرانی جنرل کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ کارروائی ایران کو مستقبل میں حملوں سے روکنے کے لیے کی گئی ہے۔

Comment here

instagram default popup image round
Follow Me
502k 100k 3 month ago
Share