بین الاقوامی

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ کشمیر میں پابندیوں کو انسانی حقوق کی خلاف و رزی قرار دے دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ کشمیر میں انٹرنیٹ کی بندش اظہارِ رائے کے بنیادی حق کی خلاف ورزی قرار دے دی۔ حکومت کو ایک ہفتے میں تمام پابندیوں کے احکامات پر نظرِ ثانی ہدایت۔ ریمارکس دیے کہ اختلافِ رائے کو دبانے کے لیے دفعہ 144 نہیں لگائی جا سکتی۔

بھارتی سپریم کورٹ کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں پابندیوں سے متعلق درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے مقبوضہ وادی میں انٹرنیٹ بحال کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق جسٹس این وی رامانا، جسٹس سباش ریڈی اور جسٹس بی آر گوائی پرمشتمل تین رکنی بنچ نے 27 نومبر کو محفوظ کیے جانے والا فیصلہ سنایا۔

بھارتی سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ اظہار رائے کو دبانے کے لیے دفعہ 144 نافذ نہیں کی جا سکتی۔
بھارتی سپریم کورٹ نے ریمارکس دیئے کہ انٹرنیٹ کی آزادی بنیادی حق ہے اور غیر معینہ مدت تک انٹرنیٹ کی معطلی ٹیلی کام قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

بھارتی سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری پابندیوں کے نوٹیفکیشن کو چھاپا جائے۔ پابندیوں کے احکامات کا مقبوضہ کشمیر انتظامیہ ایک ہفتے میں جائزہ لے۔ غیر معینہ مدت کیلئے انٹرنیٹ کی بندش کی اجازت نہیں ہے۔

کہا گیا کہ انٹرنیٹ کو محدود یا معطل کرنے کے احکامات کی عدالتی جانچ ہوگی۔

آپ کو بتاتے چلیں کہ 5 اگست کو راجیہ سبھا میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا بل پیش کرنے سے پہلے ہی صدارتی حکم نامے کے ذریعے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی تھی اور ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر کو اپنی وفاقی حکومت کے زیرِ انتظام دو حصوں میں تقسیم کردیا تھا۔

اس کے ساتھ ہی مودی سرکار اور قابض بھارتی فوج نے وادی میں کرفیو لگا کر مکمل طور پر اسے جیل میں تبدیل کر دیا ہے۔

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers