قومی

ایوان میں اگر کرپشن اور منشیات کی بات ہوگی تو قانون سازی کدھر ہوگی: مراد سعید

قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے مواصلات مراد سعید کا کہنا تھا کہ عدالت کے اندر کیسز چلتے ہیں اور یہاں پہ آ کے تقریریں جھاڑی جاتی ہیں۔ اس تصویر کے دو رخ ہیں، پہلی چیز جو ہم نے ابھی رانا ثناءاللہ کی تقریر سنی جبکی دوسرا اے این ایف کا مؤقف ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم جب یہاں پہ بات کرتے ہیں تو ہمیں پتہ ہونا چاہیے کہ ہم خلف لے کہ بات کر رہے ہیں۔ یہاں پہ ہونے والی گفتگو سچی ہوتی ہے، ہمیں اس میں قرآن مجید لانے کی ضرورت نہیں۔

سوموار کو شہریار آفریدی آ کے اے این ایف کا مؤقف بیان کر دیں گے۔ جب رانا ثناءاللہ کی ضمانت ہوئی تو ان کی جانب سے پورے پاکستان میں اے این ایف کو ٹارگٹ کیا گیا۔

ان کے اوپر جو سوالات ہیں وہ ہم نے نہیں اٹھائے تھے۔ سب سے پہلا مقدمہ شریف خاندان نے رانا ثناءاللہ کے خلاف 1992 میں درج کیا تھا۔

عابد شیر علی کے والد خود ان پر 22 افراد کے قتل کے الزامات لگاتے آئے ہیں۔ کالعدم تنظیموں سے رابطے کے حوالے سے جو حقائق اور تصاویر سامنے آئیں، کیا وہ ہم لائے تھے؟

کیا ہم ماڈل ٹاؤن کا سانحہ بھول گئے، جس میں بے دردی سے خواتیں اور بچوں کو گولیاں مار کر شہید کیا گیا۔ 14 بچوں اور خواتین کی لاشیں خود ہم نے ٹی وی پر دیکھیں۔

ابھی انہوں نے قرآن مجید اٹھا کر تصویر کا ایک رخ پیش کر دیا، ایک رخ اے این ایف دکھا رہا ہے جو کہ ایک آزاد اور خود مختار ادارہ ہے۔

اے این ایف کا مؤقف یہ ہے کہ ان سے پوچھا جائے کہ یہ بیگ آپ کا ہے، انہوں نے جواب دیا، ہاں!۔ ہم یہاں انصاف پہ یقین رکھتے ہیں۔ یہاں آ کے اس طرح کے معاملات اٹھانا، ایوان کے ساتھ ہی نہیں بلکہ ووٹرز کے ساتھ بھی زیادتی ہے۔

ہر بندہ اگر یہاں آ کر منشیات اور کرپشن کے کیس کی بات کرے گا تو قانون سازی کدھر جائے گی؟

Comment here

instagram default popup image round
Follow Me
502k 100k 3 month ago
Share