قومی

لاہور شاہی قلعے میں تقریب کی تحقیقات کے لیے انکوائری شروع

لاہور شاہی قلعے میں تقریب کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی تشکیل۔ اسسٹنٹ کمشنر کا دورہ۔ والڈ سٹی اتھارٹی کے افسران کے بیانات قلمبند کیے۔ پولیس کے مقدمے میں نامزد ملزموں کی گرفتاری کے لیے چھاپے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے بھی رپورٹ طلب کر لی۔

پولیس نے شاہی قلعے میں شادی کی تقریب کے انعقاد پر مقدمہ درج کر لیا۔ لاہور کے شاہی قلعہ کے شاہی باورچی خانہ دعوت ولیمہ کے انعقاد کے معاملے کی تحقیقات شروع ہوگئی ہیں۔ کھاد کمپنی نے5 لاکھ روپے ميں کارپوريٹ ڈنر کی اجازت لی تھی لیکن وہاں مہندی کی تقریب کرلی گئی۔

مقدمے میں نجی کمپنی کے ایگزیکٹو ایڈمن اسجد نواز اور عملہ نامزد کیا گیا ہے۔ مقدمہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر والڈ سٹی علی اسلام کے بیان پر درج کیا گیا۔

دوسری جانب اسسٹنٹ کمشنر تبریز مری نے معاملے کی انکوائری کا آغاز کردیا ہے۔ تبریز مری نے ہفتے کو شاہی قلعہ کا دورہ کیا اور ان کی جانب سے والڈ سٹی اتھارٹی کے افسران کے بیانات قلمبند کیے گئے۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے بھی اس واقعے کی رپورٹ طلب کر لی۔ ان کی ہدایت پربنائی گئی انکوائری ٹیم کے ممبران نے رائل کچن کا معائنہ کیا۔ ڈپٹی کمشنر لاہور کے ذرائع کے مطابق انکوائری ٹیم نے معطل قلعہ انچارج بلال ڈار کا بیان قلمبند کیا ہے۔ بلال ڈار کو اس واقع پر معطل کر دیا گیا ہے۔

لال ڈار نے بتایا کہ فاطمہ فرٹیلائزر کمپنی نے شاہی حمام میں نجی ڈنر کی تقریب کی باقاعدہ اجازت لی تھی اور انہیں تمام قواعد و ضوابط سے بھی تحریری طور پر آگاہ کیا گیا تھا۔

ڈی جی والڈ سٹی کامران لاشاری کا کہنا تھا کہ ہم سے جھوٹ بول کر دھوکہ دینے والی پارٹی کے خلاف ایف آئی آری درج کروادی گئی ہے۔ ایک لاکھ روپے انھوں نے بطور سکیورٹی جمع کروائے تھے وہ بھی ضبط کر لیے ہیں۔

آپ کو بتاتے چلیں کہ تقریب کے لیے شاہی باورچی خانے میں قناتیں لگائی گئیں اور فانوس لٹکائے گئے۔ اس دوران بچا کھچا سامان اور کچرا قلعے کے کونوں میں پھینکا گیا۔ نجی کمپنی نے تقریب کے انعقاد کے دوران باہمی معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers