قومی

ایم کیو ایم کے خالد مقبول صدیقی نے وزارت چھوڑنے کا اعلان کر دیا

اتحادیوں میں دوریاں، خالد مقبول صدیقی نے وزارت چھوڑنے کا اعلان کر دیا۔ یہ بھی واضح کیا کہ بلاول بھٹو کی آفر کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ کہتے ہیں کہ کراچی پیکج پہ پیش رفت اذیت ناک حالت تک سست رہی ہے۔ میرے وزارت میں بیٹھنے سے یہاں کی عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہو رہا۔ حکومت نے کوئی وعدہ پورا نہیں کیا۔

کراچی میں پارٹی رہنماؤں کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ کراچی کے مسائل حل نہیں ہو رہے۔ اس لئے کابینہ میں بیٹھنا بے سود ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایم کیوایم پاکستان حکومت سے تعاون مسلسل جاری رکھے گی اور حکومت کا حصہ بھی ہوگی۔ اس کا کراچی کے شہریوں پر اچھا تاثر ہوگا۔

فنڈز کے حوالے سے کہا کہ پورے کراچی نے پاکستان میں 89 فیصد سیلز ٹیکس دیا۔ ہزاروں ارب دینے والے شہر کیلئے حکومت کی جیب سے 1 ارب تک نہیں نکلے۔ کراچی کے شہریوں کے مسائل جوں کے توں برقرار ہیں۔

ایک ارب روپے کو چندے سے اکھٹے ہوجائیں۔ حکومت کی کچھ مصروفیات ہو سکتی ہیں، 16، 17 ماہ گزرنے کے بعد بھی کسی ایک نکتے پر پیشرفت نہیں ہوئی۔

بولے کہ پی ٹی آئی کے ساتھ دو معاہدے ہوئے تھے۔ ایک معاہدہ بنی گالہ اور دوسرا بہادرآباد میں ہوا۔ جہانگیر ترین کی موجودگی میں معاہدہ ہوا۔ ہم نے وعدہ کیا تھا حکومت بنانے سمیت ہر مشکل میں ساتھ دیں گے۔

خالد مقبول صیقی کا کہنا تھا کہ اب یقین دہانیوں پر یقین نہیں آرہا۔ پہلے تجربے کی کمی سمجھتے رہے اب لگتا ہے سنجیدگی ہی نہیں۔ سندھ کے شہری علاقوں سے ناانصافی کی جارہی ہے۔ کیا کوئی خفیہ آئین ہے جو کراچی کوپیسے دینے سے روکتا ہے توآگاہ کیا جائیگا۔

بولے کہ ہر مشکل موقع پر حکومت کا ساتھ دیا لیکن سندھ کے شہری علاقوں سے ناانصافی کی جا رہی ہے۔ ہزاروں ارب دینے والے شہر کو ایک ارب نہیں دیا جا رہا۔

بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے وزارتوں کی پیشکش سے متعلق سوال پر کنوینر ایم کیو ایم نے کہا کہ گزشتہ دنوں کہیں اور سے بھی وزراتوں کی بات ہوئی تھی لیکن ہم حکومت سے اپنا تعاون جاری رکھیں گے۔

وزارت کے حوالے سے بولے کہ ہم نے کابینہ کیلئے ج ونام بھجوائے اس میں میرا، فروغ نسیم کا نام نہیں تھا۔ فروغ نسیم جیسے قانون دان کی وفاقی حکومت کو ضرورت تھی۔ ہمیں 2 وزارتوں کا کہہ کہ ایک وزارت دی گئی۔

Comment here

instagram default popup image round
Follow Me
502k 100k 3 month ago
Share