بین الاقوامی

ایران میں یوکرینی طیارے کو نشانہ بنانے کے اعتراف کے بعد ملک بھر میں مظاہرے

ایران کے یوکرینی طیارے کو نشانہ بنانے کے اعتراف کے بعد عوام میں غم و غصہ۔ تہران میں شہری سڑکوں پر نکل آئے۔ سنگین غلطی اور انسانی جانوں کے ضیاء پر سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای سے استعفے کا مطالبہ۔

ایرانی حکام کی جانب سے یوکرینی طیارے کی تباہی کے اعتراف کے بعد ایران میں اب مظاہرے شروع ہو گئے ہیں۔ ایران میں یونیورسٹی طلباء سمیت سینکڑوں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔ برطانوی سفیر اظہارِ یکجہتی کرنے پہنچے تو انہیں حراست میں لے لیا گیا۔ تا ہم بعد میں چھوڑ دیا گیا۔

ایران میں عوام مشتعل، سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے استعفے کا مطالبہ کر دیا۔ ایران میں مسافر طیارے کو امریکہ کی جانب سے حملہ سمجھ کر نشانہ بنایا گیا تھا۔

تہران میں مظاہروں کا سلسلہ شروع، یونیورسٹی طلباء سمیت سینکڑوں افراد تہران کی سڑکوں پر نکل آئے اور حکام کے خلاف نعرے بازی کرتے رہے۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ حکام نے پہلے طیارے پر میزائل داغنے کی تردید کی جبکہ بعد میں اعتراف کر لیا۔ اس جھوٹ پر ذمے داروں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے۔

پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کی۔ مظاہرین سے اظہارِ یکجہتی کرنے برطانوی سفیر روبرٹ میکئیر احتجاج میں پہنچے تو ایرانی حکام نے انہیں حراست میں لے لیا۔

برطانوی وزیرِ خارجہ ڈومینیک ہیراک کا کہنا ہے کہ ہمارے سفیر کی گرفتاری بین الااقوامی قوانین اور سفارتی آداب کے خلاف ہے۔

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers