قومی

اسد عمر کی قیادت میں حکومتی وفد کی ایم کیو ایم سے ملاقات

روٹھی ایم کیو ایم کو منانے کے لیے حکومت نے پلاننگ کر لی۔ 3 وزارتیں دینے پر رضامند، اسد عمر کی قیادت میں وفد کی آج بہادرآباد آمد۔ خالد مقبول صدیقی کے بعد فروغ نسیم پر بھی مستعفی ہونے کا دباؤ۔

وفاقی وزیر نرائے منصوبہ بندی اسد عمر کی سربراہی میں تحریک انصاف کے وفد حلیم عادل شیخ، خرم شیرزمان اور فردوس شمیم نقوی نے بہادرآباد میں ایم کیوایم کی قیادت سے ملاقات کی۔ اتحادیوں کی جانب سے شکایتوں‌ کے انبار لگا دیئے گئے۔

اسد عمر نے کراچی سے متعلق متحدہ کے مطالبات کو جائز مانتے ہوئے انہیں پورا کرنے کی یقین دہانی کروائی۔ حکومتی وفد میں گورنر سندھ عمران اسماعیل سمیت دیگر پارٹی رہنما بھی شریک تھے۔

اسد عمر کا کہنا تھا کہ پچھلے ہفتے ہماری اسلام آباد میں ملاقات ہوئی تھی۔ کراچی کے منصوبوں پر ایم کیو ایم سے بات چیت ہوئی۔ ہم مستقبل میں بھی ساتھ مل کر چلیں گے۔ ایم کیو ایم کو بتایا معاملات کہاں تک پہنچ چکے ہیں۔ کراچی کے لیے بڑے ترقیاتی منصوبوں پر جلد کام شروع ہوگا۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ فروری کے پہلے ہفتے وزیراعظم عمران خان کراچی کے دورے کے دوران مختلف منصوبوں کا افتتاح کریں گے۔

ایم کیو ایم کے کنوینر خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ حکومتی وفد کو خوش آمدید کہا ہے۔ حکومت کے ساتھ مذاکرات نہیں، ملاقات تھی جو پہلے سے طے تھی۔ کل بھی کہا تھا کہ حکومت کے ساتھ تعاون جاری رکھیں گے۔

آپ کو بتاتے چلین کہ گزشتہ روز کراچی میں ایم کیو ایم کے کنوینر خالد مقبول صدیقی کا پارٹی رہنماؤں کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ کراچی کے مسائل حل نہیں ہو رہے۔ اس لئے کابینہ میں بیٹھنا بے سود ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ ایم کیوایم پاکستان حکومت سے تعاون مسلسل جاری رکھے گی اور حکومت کا حصہ بھی ہوگی۔ اس کا کراچی کے شہریوں پر اچھا تاثر ہوگا۔

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers