قومی

بلوچستان اور آزاد کشمیر میں برفباری نے تباہی مچا دی

بلوچستان میں برفباری بھاری پڑ گئی۔ پی ٹی ایم اے کے مطابق مکان اور چھتیں گرنے سے 17 افراد جاں بحق ہو گئے۔ قلعہ سیف اللہ میں منفی 14 ڈگری میں پھنسے 400 افراد کو ریسکیو کر لیا گیا۔ 7 اضلاع میں ایمرجنسی نافذ، متاثرین کے لیے سعودی عرب کی طرف سے امدادی سامان پہنچا دیا گیا۔

آزاد کشمیر بھی برف کی قید میں لینڈ سلائیڈنگ اور برفانی تودے گرنے سے جاں بحق افراد کی تعداد 16 ہو گئی۔ ایوبیاہ، گلیات اور گردونواح میں برف ہی برف۔ 3 فٹ برف پڑنے سے راستے بند ہو گئے۔ مری میں ایک فٹ برف پڑی سڑکیں کھولنے کے لیے بھاری مشینری سے کام جاری۔

بلوچستان میں طوفان نے تباہی مچا دی ہے۔ پی ٹی ایم اے کے مطابق زخمی افراد کو نکالنے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ برف میں پھنسے افراد کو بذریعہ ہیلی کاپٹر نکالنے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ صوبائی حکومت نے 7 اضلاع میں اسنو ایمرجنسی نافذ کر دی۔

کوئٹہ ائرپورٹ پر کئی پروازیں منسوخ کر دی گئیں جبکہ پی آئی اے کا طیارہ رن وے سے اتر گیا۔ کوہلو اور گردونواح میں پندرہ سال بعد برفباری ہوئی جبکہ زیارت میں پارہ منفی 6 اور کوئٹہ میں منفی 4 تک گر گیا۔

ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کا کہنا ہے کہ سڑکیں کھلوانے اور عوام کو ہر ممکن امداد پہنچانے کے لیے صوبائی حکومت مکمل متحرک ہے۔ نوکنڈی کے علاقے میں سیلابی ریلے میں پھنسے افراد کو نکالنے کے لیے آرمی سے مدد مانگی ہے۔

آزاد کشمیر میں سرگن نالہ گاؤں میں 6 مکانات برفانی تودے کی زد میں آئے۔ لوات، شونتھر، کیل، دودھنیال، پھولاوئی اور شاردہ میں 16 افراد زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

Comment here

instagram default popup image round
Follow Me
502k 100k 3 month ago
Share