قومی

روٹھی ایم کیو ایم نہ مانی، وزیراعظم عمران خان سے خالد مقبول صدیقی کی ملاقات کل ہو گی

روٹھی ایم کیو ایم نہ مانی، وزیراعظم عمران خان نے خالد مقبول صدیقی کو ملاقات کے لیے اسلام آباد بلا لیا۔ تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی۔ خالد مقبول کا استعفٰی وزیراعظم کو موصول نہیں ہوا۔ خالد مقبول کو آج کابینہ اجلاس میں بھی شرکت کی دعوت دی گئی۔

وفاقی کابینہ کا اجلاس وزیراعظم عمران خان کی زیرِ صدارت جاری ہے۔ اجلاس میں 16 نکاتی ایجنڈہ زیرِ بحث ہے۔ کیبینیٹ میٹنگ کے احتتام زیرو آور میں ملکی سیاسی صورتحال پر غور ہو گا۔

آج حکومتی کمیٹی کے سامنے خالد مقبول صدیقی کا استعفٰی پہلی ترجیح ہے۔ ایم کیو ایم کو منانے کے لیے اور خالد مقبول صدیقی کا استعفٰی واپس لینے پر آمادہ کرنے کے لیے مختلف آپشنز پر غور کیا جائے گا۔

اجلاس میں امریکہ ایران کشیدگی آرمی حالات کا جائزہ بھی لیا جا رہا ہے۔ ساتھ ساتھ ملک کی معاشی اور سیاسی صورتحال بھی زیرِ بحث آئے گی۔

زیرو آور میں ایم کیو ایم کی علیحدگی اور دیگر اتحادیوں کے تحفظات پر بھی بات ہو گی۔ زیرو آور میں صرف وفاقی کابینہ کے لوگ اور وزیراعظم ہی موجود ہوں گے۔

16 نکاتی ایجنڈے میں وزارتوں اور متعلقہ محکموں کی کارکردگی پر بریفنگ دی جائے گی۔ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلوں کی توسیع کی جائے گی۔

ساتھ ہی ساتھ فلیگ آفیسر کی ڈیپوٹیشن اور ملیٹنٹ سیکیورٹی ایجنسی کے ڈی جی کے طور پر تقرری کو بھی ایجنڈے میں شامل رکھا گیا ہے۔

خالد مقبول صدیقی آج کے اجلاس میں شریک نہیں ہیں۔ تاہم ان کا استعفٰی وزیراعظم کو منظور نہیں ہوا۔ ان کو وزیراعظم نے دعوت دے تھی کہ وہ آج کے اجلاس میں شامل ہوں لیکن وہ شریک نہیں ہوئے۔

کل خالد مقبول صدیقی اور وزیراعظم کے درمیان ملاقات طے پا گئی ہے۔ اس حوالے سے ایم کیو ایم کے ترجمان امین الحق کا کہنا ہے کہ جو ہم سے وعدے کیے گئے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ ان پر عملدر آمد ہو۔ اربن ڈیویلپمنٹ پیکج پر اب تک کوئی پیشِ رفت نہیں ہوئی۔

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers