قومی

مریم نواز کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا معاملہ، عدالت کا 21 جنوری تک وفاقی حکومت سے جواب طلب

رانا ثناءاللہ بھی ای سی ایل کی زنجیروں میں جکڑے گئے۔ مریم نواز، جاوید لطیف، سابق سینیٹر وقار احمد خان کے ناب بھی ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل۔ ریلیف کے لیے مریم نواز کی نظریں لاہور ہائی کورٹ پر۔ عدالت نے 21 جنوری تک وفاقی حکومت سے جواب طلب کر لیا۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس طارق عباسی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے مریم نواز کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست کی سماعت کی۔ عدالت نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ بتایا جائے کہ حکومت نے مریم نواز کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے معاملے پر کیا پیش رفت کی ہے۔

مریم نواز کے وکلاء نے دلائل پیش کرتے ہوئے کہا مریم نواز کے والد کی طبیعت سخت خراب ہے اور وہ بیرون ملک زیر علاج ہیں، میاں نواز شریف کی دیکھ بھال ان کی ذمہ داری ہے۔

مریم نواز کے وکلاء نے عدالت کو بتایا کہ مریم نواز کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کے معاملے پر وفاق کو سات دن میں فیصلہ کرنے کی ہدایت کی گئی تھی لیکن چار ہفتوں کے بعد اب وفاقی حکومت کی چِٹھی ملی ہے جس میں مریم نواز کا نام ای سی ایل سے نکالنے سے انکار کر دیا گیا ہے۔

لاہور ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مریم نواز کی ای سی ایل سے نام نکالنے کی درخواست پر تحریری جواب طلب کرلیا۔

دوسری جانب سابق صوبائی وزیر قانون رانا ثنا اللہ کا نام بھی ایگرٹ کنٹرول لسٹ میں ڈال دیا گیا ہے۔ ان کے ساتھ ہی مریم نواز، جاوید لطیف اور سابق سینیٹر وقار احمد کے نام بھی ای سی ایل میں شامل ہیں۔

رانا ثناءاللہ کے خلاف منشیات سے متعلق مقدمہ زیر سماعت ہے جس کی وجہ سے ان کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی سفارش کی گئی۔ جس کی سرکلیشن سمری کے ذریعے وفاقی کابینہ نے منظوری دے دی ہے۔

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers