قومی

سپریم کورٹ کی نیا نیب قانون لانے کے لیے حکومت کو تین ماہ کی مہلت

سپریم کورٹ نے نیا نیب قانون لانے کے لیے حکومت کو تین ماہ کی مہلت دے دی ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ تین ماہ میں مسٔلہ حل نہ ہوا تو قانون اور میرٹ کو دیکھتے ہوئے کیس کا فیصلہ کیا جائے گا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ نے نیب کی کسی دفاع کو غیر آئینی قرار دیا تو ادارہ فارغ ہو جائے گا۔

چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں نیب آرڈننس 25-اے سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کی۔ سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے عدالت کو بتایا کہ ان کا پرائیوٹ ممبر بل سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں موجود ہے۔ منظوری کے بعد ایوان میں جائے گا۔

بل میں 25 اے کو مکمل طور پر ختم کیا جا رہا ہے۔ درخواست گزار نے بتایا کہ کیس 2016 سے زیرِ سماعت ہے۔ 15 تاریخوں کے بعد بھی معاملہ جوں کا توں ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ معاملہ نمٹانے لگے ہیں۔ اگر بحث کرنی ہے تو سیکشن 25 اے کو آئین سے متصادم کریں۔ پہلے انکوائری پھر تحقیقات پھر گواہ اس طرح تو کیس زندگی بھر ختم نہیں ہو گا۔

کرپشن کی رقم واپس کرنے والوں کو نتائج کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ نیب کو پلی بارگین سے روک چکی ہے۔ قانون سازی کے بغیر یہ اختیار استعمال نہیں ہو گا۔

حکومت نے نیب آرڈیننس لا کر احتساب بیرو کے پر کاٹ دیے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ مناسب قانون پارلیمنٹ سے منظور ہونے کی توقع ہے۔ مسٔلہ حل نہ ہوا تو قانون اور میرٹ کو دیکھ کر فیصلہ کیا جائے گا۔

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers