قومی

حکومتی وفد کی ق لیگ سے ملاقات، تحفظات کا اظہار

اتحادیوں نے وفاقی حکومت کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔ ق لیگ نے پنجاب میں تحفظات کا اظہار کردیا ہے۔ مطالبات کی منظوری کے لیے حکومت کو ایک ہفتے کی ڈیڈلائن دے دی۔

مطالبات پورے نہ ہونے پر مرکز اور پنجاب حکومت سے علیحدہ ہونے کی دھمکی دے دی۔ حکومتی وفد نے مطالبات جلد از جلد پورے کرنے کی یقین دہانی کرا دی ہے۔

مسلم لیگ ق اور حکومتی کمیٹی کے درمیان مذاکرات پنجاب ہاؤس میں ہوئے۔ ذرائع کے مطابق ق لیگ نے پنجاب میں گورننس پہ تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مطالبات پر عملدارآمد پر حکومت کو 1 ہفتے کا وقت دے دیا۔

حکومتی کمیٹی نے ق لیگ کو یقین دہانی کرا دی کہ اگلے ہفتے تک آپ کو مطالبات پر عملدرآمد ہوتا نظر آئے گا۔ ق لیگ نے حکومتی وفد کو بتا دیا کہ مطالبات پورے نہ ہوئے تو مرکز اور پنجاب حکومت سے علیحدہ ہو جائیں گے۔

مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ق لیگ کے رہنماء طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ ترقیاتی عمل کے حوالے سے کچھ مطالبات تھے، حکومت نے یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ مطالبات پورے ہونگے۔

انہوں نے کہا کہ ایک گھر میں بستے ہوئے 100 اختلافِ رائے ہوتے ہیں۔ میں پرویز خٹک اور جہانگیر ترین کا سکر گزار ہوں گے انہوں نے خوش اسلوبی سے ہمارے مسائل کو سمجھا ہے۔

حکومتی مذاکراتی ٹیم میں شامل پرویز خٹک اور جہانگیر ترین نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت کو کوئی مشکل نہیں ہے۔ ایم کیو ایم وزارتوں سے الگ ہوئی ہے، حکومت سے نہیں۔

مسلم لیگ ق اتحادی جماعت تھی اور رہے گی۔ جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہ بلوچستان عوامی پارٹی سے تفصیلی میٹنگ ہوئی ہے۔ ہماری جی ڈی اے کے ساتھ بھی میٹنگ ہے، بی این پی مینگل کے ساتھ ہماری میٹنگز ہوتی رہتی ہیں۔ مجھے کوئی خطرہ نظر نہیں آ رہا۔

پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ ہم پہلے بھی اتحادی تھے، اب بھی اتحادی ہیں اور انشاءاللہ مستقبل میں بھی اتحادی رہیں گے۔ ہماری بہت اچھی میٹنگ ہوئی ہے۔ جو غلط فہمیاں تھیں وہ ختم ہو چکی ہیں۔ ہم اس حکومت کے 5 سال پورا کریں گے۔

آپ کو بتاتے چلیں کہ اجلاس میں مسلم لیگ نے مؤقف اختیار کیا کہ مزید کسی وزارت کی خواہش نہیں۔ حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے اور اب امید ہے کہ ہمارے تحفظات دور ہوں گے۔

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers