بین الاقوامی

مسٔلہ کشمیر پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس

7 دہائیوں سے بھارتی جبر سہتے کشمیریوں کی آہ و پکار عالمی برادری نے سن لی ہے۔ مسٔلہ کشمیر پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس، چینی مندوب کا کہنا ہے کہ اجلاس میں کشمیر کی زمینی صرتحال پر غور کیا گیا۔ روسی مندوب نے بتایا کہ بند کمرۂ اجلاس میں مسٔلہ کشمیر زیرِ بحث آیا۔ امید ہے 2 طرفہ کوششوں سے حالات بہتر ہو جائیں گے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر غور ہوا ہے۔ تمام 15 ممبران نے اس مباحثے میں حصہ لیا ہے۔

چینی مندوب زینگ جن نے میڈیا بریفنگ میں کہا ہے کہ مسٔلہ کشمیر پر چین کا مؤقف واضح اور اصولی ہے۔ امید ہے کہ باہمی کوششوں سے پاک بھارت اختلافات دور ہو جائیں گے۔

وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کہتے ہیں کہ سلامتی کونسل اجلاس میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر بات چیت ہو گی۔ کئی ملکوں کو مسٔلہ کشمیر پر تشویش ہے۔ تنازعہ کا نہیں امن کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔

شاہ محمود قریشی کی یو این سیکرٹری جنرل سے بھی ملاقات، وادی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

آپ کو تاتے چلیں کہ یہ 5 اگست کے بعد سلامتی کونسل کا تیسرا اجلاس ہے۔ 1965 کے بعد کبھی بھی کشمیر کے مسٔلے پر سلامتی کونسل نہیں بیٹھی۔
بھارت نے بہت کوشش کی کہ یہ اجلاس نہ ہو۔ امریکہ اور فرانس کے ذریعے انہوں نے دباؤ ڈالنے کی کوشش کی۔ دوسری جانب سے چین، روس اور پاکستان نے اجلاس بلانے کی کوشش کی۔

165 دنوں سے کشمیر میں بلیک آؤٹ ہے۔ وہاں پر کمیونیکیشن بالکل بند ہے۔ اقوامِ عالم کو اسی وجہ سے تشویش ہوئی اور یہ اجلاس منعقد کیا گیا۔

آپ کو بتاتے چلیں کہ 5 اگست کو راجیہ سبھا میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا بل پیش کرنے سے پہلے ہی صدارتی حکم نامے کے ذریعے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی تھی اور ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر کو اپنی وفاقی حکومت کے زیرِ انتظام دو حصوں میں تقسیم کردیا تھا۔

اس کے ساتھ ہی مودی سرکار اور قابض بھارتی فوج نے وادی میں کرفیو لگا کر مکمل طور پر اسے جیل میں تبدیل کر دیا ہے۔

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers