قومی

عامر خان نے خالد مقبول کے ساتھ ہاتھ کر دیا: مصطفیٰ کمال

خالد مقبول صدیقی نے استعفیٰ دیا یا دلوایا گیا؟ مصطفٰی کمال نے سوال اٹھا دیے۔ کہتے ہیں کہ عامر خان نے خالد مقبول کے ساتھ ہاتھ کر دیا۔ فروغ نسیم پر ان کا بس نہیں چلتا۔ خالد مقبول کو قربانی کا بکرا بنا دیا۔ عامر خان امین الحق کو وزیر اور فیصل سبزواری کو مشیر بنوانا چاہتے ہیں۔ استعفے اور کراچی والوں کے نام پر ڈرامہ رچایا جا رہا ہے۔

پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفیٰ کمال نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم والے حکومت سے باہر نہیں رہ سکتے۔ ان کی کرپشن کی سانسیں حکومت کے ساتھ جڑی ہیں۔ جب یہ حکومت سے باہر آئیں گے سب گرفتار ہو جائیں گے۔

کہا کہ ایم کیو ایم والے ڈرامہ کر رہے ہیں۔ کراچی والوں کے نام جو ڈرامہ ہو رہا ہے اسے اب بند ہونا چاہیے۔ بولے کہ یہ ایم کیو ایم والوں کی آپس کی لڑائی ہے کیونکہ سینئر ڈپٹی کنوینر ایم کیو ایم پاکستان عامر خان نے خالد مقبول صدیقی کے ساتھ ہاتھ کر دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کے اندر گروپ بن چکے ہیں۔ خالد بھائی کو ہٹاکر امین الحق کو آگے لایا جا رہا ہے۔ عامر خان نے اپنے گروپ کے ساتھ خالد مقبول کو استعفے کے لیے مجبور کیا ہے۔

وفاقی وزیر برائے قانون فروغ نسیم کے حوالے سے کہا کہ ان کا فروغ نسیم پر زور نہیں چلتا اس لیے ان سے استعفیٰ نہیں لیا ورنہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک وزیر نے استعفیٰ دے دیا اور دوسرے کو چھوڑ دیا جائے۔ اگر حکومت سے استعفیٰ دینا تھا تو دونوں وزراء استعفیٰ دیتے۔ عامر خان امین الحق کو وزیر اور فیصل سبزواری کو مشیر بنوانا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں خدمت خلق فاؤنڈیشن سے لے کر تمام کچے چٹھے کھولوں گا۔ حکومت سے گزارش ہے ان کی دھمکیوں میں نہ آئے۔ وزیر اعظم پنجاب اور کے پی کا بلدیاتی نظام یہاں بھی لائیں۔

ایک شہری کو ر مصطفیٰ کمال نے کہا جب میں میئر تھا تو کراچی ترقی کر رہا تھا۔ کراچی کی ترقی کا کریڈٹ مشرف نہیں زرداری کو جاتا ہے۔ پرویز مشرف 2008 میں چلے گئے تھے۔ میں نے اس کے بعد آصف زرداری کے ساتھ چھتیس ماہ کام کیا۔ میری میئرشپ کا زیادہ زمانہ زرداری دور کا ہے۔

Comment here

instagram default popup image round
Follow Me
502k 100k 3 month ago
Share