قومی

سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کی اپیل اعتراض لگا کر واپس کر دی

سپریم کورٹ نے سابق صدر پرویز مشرف کی سزا کے خلاف اپیل اعتراض لگا کر واپس کر دی۔ مجرم کے سرینڈر کرنے تک اپیل دائر نہیں کی جا سکتی، عدالت کا اعتراض۔ سابق صدر کے وکیل کا اعتراض کے خلاف اپیل کا فیصلہ۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے پرویزمشرف کی خصوصی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل پر اعتراضات عائد کرتے ہوئے اسے واپس کر دیا۔ درخواست میں اعتراض لگایا گیا ہے کہ خصوصی عدالت نے سابق صدر مشرف کو سزائے موت سنائی تھی مجرم کے سرینڈر کرنے تک اپیل کو ٹیک اپ نہیں کیا جا سکتا۔

رجسٹرار آفس کا مزید کہنا ہے سپریم کورٹ پہلے گرفتاری پھر اپیل کا اصول وضع کر چکی ہے۔ اعتراضات کے خلاف ایک ماہ میں اپیل دائر کی جا سکتی ہے۔

سابق صدر پرویز مشرف نے اپیل میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ انہیں شفاف ٹرائل کا حق نہیں دیا گیا۔ خصوصی عدالت کی تشکیل بھی غیرآئینی تھی۔ نوازشریف نے ذاتی رنجش پر مقدمہ بنایا۔ انھوں نے موقف دیا کہ ان کو نہ بیان ریکارڈ کرانے کا موقع ملا نہ ہی فیئر ٹرائل کا حق حاصل ہوا۔

درخواست میں مزید کہا گیا کہ پرویز مشرف جیل توڑ کر نہیں بھاگے تھے۔ خصوصی عدالت نے بھی ان کی علالت کو تسلیم کیا۔ تاہم عدالت نے پرویز مشرف کوغیر حاضری میں سزا سنائی۔ اس لیے اس کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔

دوسری جانب سابق صدر کے وکیل سلمان صفدر نے سپریم کورٹ کے اعتراض کے خلاف اپیل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

پرویز مشرف کے وکیل کا کہنا تھا کہ اپیل پر اعتراض غیر متوقع نہیں۔ صفدر فیصلے کے خلاف اپیل کی تیاری کر لی ہے۔ ایڈوکیٹ 30 دن کے اندر خصوصی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل کرنا لازمی تھی۔ لاہور ہائیکورٹ کا تین رکن بینچ خصوصی عدالت کی تشکیل کو ہی غیر آئینی قرار دے چکا۔

آپ کو بتاتے چلیں کہ اسلام آباد کی خصوصی عدالت نے سابق صد پرویز مشرف کو سنگین غداری کا مرتکب قرار دیتے ہوئے آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت انہیں سزائے موت دینے کا حکم دیا تھا جس کے بعد سابق صدر فیصلے کے خلاف اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کیا تھا۔

Comment here

instagram default popup image round
Follow Me
502k 100k 3 month ago
Share