قومی

عدالت نے سانحہ بلدیہ کی جے آئی ٹی رپورٹ پبلک کرنے کا حکم دے دیا

پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کی مشکلات میں اضافہ، سندھ ہائیکورٹ کا بڑا حکم آ گیا۔ عدالت نے سانحہ بلدیہ،  نثار مورائی اور لیاری گینگ وار عزیر بلوچ کے مقدمات کی جے آئی ٹیز کی رپورٹس  کو پبلک کرنے کی ہدایت کردی۔

سندھ ہائی کورٹ میں لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ، سانحہ بلدیہ اور نثار مورائی کی جے آئی ٹیز کو منظر عام پر لانے سے متعلق کیس پر سماعت ہوئی۔

سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی وزیر علی زیدی کی لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ، فشریز کے سابق چیئرمین نثار مورائی اور سانحہ بلدیہ ٹاون کی جے آئی ٹی رپورٹس پبلک کرنے کی درخواست منظور کرلی۔

سندھ ہائی کورٹ نے حکم دیا کہ سانحہ بلدیہ، نثار مورائی، لیاری گینگ وار عزیر بلوچ کی جے آئی ٹیز عوام کے سامنے لائی جائیں۔

آپ کو بتاتے چلیں کہ 2 سال قبل تحریک انصاف کے رہنماء علی زیدی نے رپورٹس منظرعام پر لانے کیلئے سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔

علی زیدی کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ جے آئی ٹی نے قتل غارت گری کی وجوہات پتا لگا لیا تو حکومت چھپا رہی ہے۔  بلدیہ فیکٹری میں 200 سے زائد افراد زندہ جلا کر راکھ کردیا گیا اور لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیربلوچ نے لیاری کو وار زون بنایا ہوا تھا۔

نثار مورائی کے حوالے سے علی زیدی کے وکیل نے کہا کہ نثار مورائی جے آئی ٹی کے سامنے بھتہ خوری، لیاری گینگ وار کے کارندوں کو نوکریاں دینے اسلحہ فراہم کرنے کا اعتراف کرچکا ہے لحاظہ رپورٹ کو پبلک کیا جائے۔ عدالت نے 2 سال بعد درخواست منظور کر لی

Comment here

instagram default popup image round
Follow Me
502k 100k 3 month ago
Share