قومی

کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے پاکستان نے اقدامات شروع کر دیے

اسلام آباد میں ڈاکٹر ظفرمرزا کی زیرصدارت ایمرجنسی کرونا وائرس کی کور کمیٹی کے اجلاس میں سیکرٹری ہیلتھ، ایگزیکٹو ڈائریکٹر این آئی ایچ پاک فوج کے نمائندے اور دیگر ارکان نے شرکت کی۔

ڈاکٹر ظفرمرزا نے اجلاس کے شرکا کو بتایا کہ تمام ہوائی اڈوں پر ہیلتھ اسٹیبلشمنٹ کا تربیت یافتہ عملہ سکریننگ کے نظام کو یقینی بنا رہا ہے۔ وزارت صحت میں قائم ایمرجنسی آپریشن سیل بھی صورتحال کو مانیٹر کر رہا ہے۔

دوسری جانب پاکستان میں بھی کرونا وائرس پھیلنے کا خدشہ پاکستان نے چین کیلئے فضائی آپریشن معطل کردیا ہے۔ وزارت صحت نے ممکنہ کیسز کے پیش نظر تمام صوبوں کو علیحدہ وارڈز مختص کرنے کی ہدایت کردی۔

قومی ادارہ صحت نے علاج کرنے والے ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل سٹاف کومحفوظ اور مہنگا ترین لباس پہنانے کی ہدایت کردی ہے۔

معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا ہے کہ پندرہ ممالک میں یہ بیماری پھیل چکی ہے۔ اب تک 7 ہزار 831 لوگوں میں کرونا وائرس ثابت جبکہ 170 لوگ اس بیماری کی وجہ سے جاں بحق ہو چکے ہیں۔ پاکستان، خطے اور دنیا کے مفاد میں یہی بہتر ہے کہ ہم لوگوں کو وہاں سے نہ نکالیں۔

کیونکہ عالمی ادارہ صحت نے 194 ممبر ممالک کو ہدایت کی ہے کہ کوئی ملک چین سے اپنے باشندوں کو نہ نکالے۔

اس کا مطلب ہے کہ حکومتِ چین نے ووہان تک اس وائرس کو محدود کیا ہوا ہے۔ اگر شہریوں کو مختلف ممالک نکالیں گے تو وائرس کے دنیا بھر میں پھیلنے کا خدشہ ہے۔

حفاظتی اقدامت کو مدِنظر رکھتے ہوئے پاکستان اور چین کے درمیان 2 فروری تک براہ راست پروازیں بند کر دی گئیں ہیں۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی نے اس حوالے سے ہدایات جاری کردی ہیں اور ائیر چائنہ کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے.

پاکستان کے شہروں کراچی، اسلام آباد اور لاہور سے چین کیلئے براہ راست پروازوں کا نیٹ ورک ہے. جبکہ چین کے شہروں بیجنگ، شنگھائی، کانگ ژاؤ اور ہانگ کانگ سے براہ راست پروازیں پاکستان آتی ہیں۔

دوسری جانب چین میں زیر تعلیم پاکستانی طلبا و طالبات کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کے حوالے سے حکومت چین ان کے ساتھ ہر ممکن تعاون کر رہی ہے۔ جان لیوا وائرس سے بچاؤ کے لئے تمام انتطامات بھی مکمل ہیں۔

instagram default popup image round
Follow Me
502k 100k 3 month ago
Share