افغانستان: خواتین کو نوکریوں سے نہیں نکالا، طالبان نے اقوام متحدہ کے الزامات مسترد کردیے

طالبان حکام نے اقوام متحدہ کے ان الزامات کی مذمت کی ہے کہ وہ افغانستان میں خواتین کے کام کرنے کے حقوق کی خلاف ورزی کر رہے ہیں اور اس بات پر اصرار کیا کہ ملک کے پبلک سیکٹر میں ہزاروں خواتین ملازم ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق وزارت محنت اور سماجی امور کے چیف آف اسٹاف شرف الدین شریف نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ ’کام نہ کرنے کے باوجود بھی خواتین کو تنخواہیں دی جا رہی ہیں کیونکہ جنسی بنیادوں پر علیحدہ دفاتر تیار نہیں کیے گئے۔

اقوام متحدہ نے گزشتہ برس اگست میں دوبارہ افغانستان کا اقتدار سنبھالنے کے بعد سے طالبان پر اسلام سے متعلق خواتین پر سخت پابندیاں عائد کرنے کا الزام لگایا تھا، جس کے جواب میں وزارت محنت اور سماجی امور کے چیف آف اسٹاف شرف الدین شریف نے کہا کہ اسلامی نظام میں ایک ہی دفتر میں ساتھ کام کرنا ممکن نہیں ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ افغانستان میں سیکڑوں خواتین ملازمتوں سے نکالے جانے کے خلاف مظاہرے کررہی ہیں اور بحالی کا مطالبہ کر رہی ہیں کیونکہ ان میں سے متعدد خواتین کو طالبان حکام نے جبری طور پر نوکری سے نکال دیا تھا۔

 

شرف الدین شریف نے کہا کہ کچھ خواتین متعلقہ دفاتر میں اپنی حاضری لگانے کے لیے ہفتے میں صرف ایک بار دفتر جاتی ہیں جبکہ ان کی تنخواہیں ان کے گھروں تک پہنچائی جاتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ طالبان کی تمام مرد قیادت پر منحصر ہے کہ وہ یہ فیصلہ کریں کہ خواتین باقی دفاتر میں کب آ سکتی ہیں جہاں وہ فی الحال نہیں آ رہی ہیں۔

افغانستان میں حقوق کی صورتحال کے خصوصی نمائندے رچرڈ بینیٹ نے جنیوا میں کہا کہ دنیا کا کوئی ملک ایسا نہیں ہے جہاں خواتین اور لڑکیوں کو ان کے بنیادی انسانی حقوق سے خالصتاً جنس کی بنیاد پر محروم کیا گیا ہو۔

حکومتی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ رچرڈ بینیٹ کی رپورٹ جانبدارانہ ہے۔

انہوں نے پیر کو رات گئے ایک بیان میں کہا تھا کہ افغانستان میں اب خواتین کی زندگیوں کو کوئی خطرہ نہیں ہے، یہاں کوئی بھی افغان خواتین کی بے عزتی نہیں کرتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ خواتین اب بھی سرکاری اور نجی یونیورسٹیوں میں داخلے لے رہی ہیں۔

ابھی تک لڑکیوں کے زیادہ تر ثانوی اسکولوں کو ملک بھر میں بند کرنے کا حکم دیا گیا ہے یعنی خواتین یونیورسٹی کی طالبات کی یہ آخری نسل ہو سکتی ہے۔

متعدد طالبان عہدیداروں کا کہنا ہے کہ یہ پابندی صرف عارضی ہے۔

پیر کو مقامی میڈیا نے وزیر تعلیم کے حوالے سے کہا تھا کہ یہ ایک ثقافتی مسئلہ ہے، کیونکہ بہت سے دیہی لوگ نہیں چاہتے کہ ان کی بیٹیاں اسکول جائیں۔

گزشتہ برس سے جب طالبان نے اقتدار حاصل کیا تھا، انہوں نے اسلام کے سخت نظام کی تعمیل کرنے کے لیے لڑکیوں اور خواتین پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔

انہوں نے ابتدائی طور پر خواتین کے امور کی وزارت کو بند کر دیا تھا۔

سخت گیر اسلامی نظام کے حامیوں نے خواتین کو یہ بھی حکم دیا تھا کہ وہ عوامی مقامات پر پردہ کریں۔

خیال رہے کہ افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن نے طالبان حکام پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ وہاں کام کرنے والے عملے کی خواتین کو ڈرا رہے ہیں اور ہراساں کر رہے ہیں۔

گزشتہ سال اگست میں دوبارہ افغانستان کا اقتدار سنبھالنے کے بعد سے طالبان نے اسلام سے متعلق اپنے متشدد نظریات کی تعمیل کے لیے خواتین پر سخت پابندیاں عائد کر دی ہیں اور انہیں عوامی زندگی سے بے دخل کر دیا ہے۔

متعلقہ خبریں